Rahim Reaction

Rahim Reaction Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Rahim Reaction, Digital creator, New York, New City, NY.

افسوس انسانیت ختمسندھ کے علاقے تھرپارکر میں افسوسناک واقعہ شرپسند عناصر نے مینگھواڑ برادری کے اونٹ کی آنکھیں نکال لی گئی...
06/11/2026

افسوس انسانیت ختم
سندھ کے علاقے تھرپارکر میں افسوسناک واقعہ
شرپسند عناصر نے مینگھواڑ برادری کے اونٹ کی آنکھیں نکال لی گئیں تاھم وجہ ابتک معلوم نہ ہوسکیں

دوستو! اس شدید گرمی میں ذرا اُن بے زبان پرندوں کا بھی خیال رکھیں جو پانی کی ایک بوند کے لیے ترستے ہیں۔ اپنے گھر کی چھت، ...
06/10/2026

دوستو! اس شدید گرمی میں ذرا اُن بے زبان پرندوں کا بھی خیال رکھیں جو پانی کی ایک بوند کے لیے ترستے ہیں۔ اپنے گھر کی چھت، بالکونی، صحن یا کسی درخت پر پانی سے بھرا ایک چھوٹا سا برتن ضرور رکھیں۔ اگر آپ پہاڑی یا دیہاتی علاقوں میں جاتے ہیں تو وہاں بھی درختوں پر پانی کی بوتلیں یا برتن باندھ کر بھر دیا کریں۔ یاد رکھیں، کسی پیاسے جاندار کو پانی پلانا عظیم نیکی اور صدقہ جاریہ ہے۔ ہوسکتا ہے آپ کے رکھے ہوئے چند قطرے کسی پرندے کی جان بچا لیں اور اس کی خاموش دعا آپ کی زندگی میں برکت کا سبب بن جائے۔ اس پیغام کو آگے شیئر کریں تاکہ کوئی پرندہ پیاسا نہ رہے۔

06/10/2026

فجر کی نماز پڑھنے والوں کو السلامُ علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سیٹنگ 🍷🍾بوتل پینے سے چار بچے جانبحق ہوگئے 😭🤲گولڈرینگ مکمل بائیکاٹ کریں
06/09/2026

سیٹنگ 🍷🍾بوتل پینے سے چار بچے جانبحق ہوگئے 😭🤲
گولڈرینگ مکمل بائیکاٹ کریں

06/08/2026

24th Pashto Mini Vlog,☺️

*افسوسناک خبر* سعودی عرب میں پاکستانی نوجوان قتل رحیم یار خان کے علاقے چک نمبر 102/P سربھوری کے رہائشی محنت کش زاہد کو ا...
06/08/2026

*افسوسناک خبر*
سعودی عرب میں پاکستانی نوجوان قتل رحیم یار خان کے علاقے چک نمبر 102/P سربھوری کے رہائشی محنت کش زاہد کو اس کے کفیل نے معمولی تکرار پر چاقو کے وار کرکے بے دردی سے قتل کر دیا۔زاہد اپنے اہلِ خانہ کے بہتر مستقبل کے لیے دیارِ غیر میں محنت مزدوری کر رہا تھا، مگر اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یہ واقعہ نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

06/07/2026

پشین جلسہ / مولانا سیاست نہیں، ریاستِ پاکستان بچا رہے ہیں
رشحاتِ قلم / نوفل ربانی
بلوچستان جو معدنیات کا گڑھ ہے، پاکستان کا 55 فیصد معدنی رقبہ بلوچستان کا ہے۔ 50 سے زائد معدنیات دریافت کی جا چکی ہیں، درجنوں نکالی جا رہی ہیں۔ سونا، تانبا، کرومائٹ، سیسہ، کوئلہ، سلفر، کرومائٹ جیسی کتنی ہی دھاتیں شورش زدہ زمین کے سینے میں دفن ہیں۔
بلوچستان جس پر ایرانی پراکسی بھیڑیے پنجے گاڑھے بیٹھے ہیں، بلوچستان جس کے وجود پر بھا-رتی سازشوں کے جال بچھے ہوئے ہیں، جہاں درجنوں مسل-ح علیحدگی پسند تنظیمیں چل رہی ہیں جن میں بی ایل اے، بی این اے، بی ایل ایف، بی آر اے، بی آر جی، یو بی اے اسلحہ بردار ریاست سے لڑ رہی ہیں، جہاں قوم پرست نسلی عصبیت کی غلاظت میں لتھڑی جماعتیں سرگرمِ عمل ہیں۔
بلوچستان جہاں مذہب کے نام پر خارجی فکر کے دھڑے بھی سر اٹھا رہے ہیں، بلوچستان جہاں شناختی کارڈ دیکھ کر دیگر قوموں کے مزدوروں کو گولی مار دی جاتی ہے، بلوچستان جہاں علیحدگی پسند وفاقی وزیر کی دھمکی کہ ’’ان کے لیے ایک ایس ایچ او کافی ہے‘‘ پر نکلتی ہے اور کوئٹہ کے تھانوں پر قبضہ کر لیتی ہے۔
ایسے بلوچستان کے ایک ضلع پشین میں جلسہ کرتے ہیں، وہاں پاکستان کی بات کرتے ہیں، وہاں قومی عصبیت کو یہ کہہ کر کہ:
’’ہم آئین کے وفادار ہیں، ملک کو توڑنے نہیں دیں گے‘‘
اپنے پاؤں تلے روند دیتے ہیں۔ مولانا لاکھوں کے مجمع میں کہتے ہیں:
’’پاکستان قومی یکجہتی سے محروم ہے، جمعیۃ علماء اسلام قومی یکجہتی کی مثال ہے، ہم نفرت اور تعصب کے قائل نہیں ہیں، اختلاف ہو تو شائستگی کے ساتھ ہو، ہم نفرتوں کی سیاست کو دفن کرتے ہیں اور پاکستان میں محبت کی سیاست کر رہے ہیں۔‘‘
مولانا نے وہاں ریاستِ پاکستان کو بچانے کی اپنی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ آگے بڑھ کر وہ قرض بھی اتارے جو واجب نہ تھے۔۔۔
مولانا نے بلوچوں کو، پٹھانوں کو جمع کیا، ان کو ریاستِ پاکستان کے آئین کے اندر رہ کر سیاسی عمل، جمہوری رویے اور پُرامن جدوجہد کا درس دیا۔ مولانا نے عالمی طاقتوں کے کروڑوں ڈالر لگا کر بنائے گئے اس منفی بیانیے کو ملیامیٹ کر دیا کہ بلوچ علیحدگی چاہتے ہیں۔ مولانا نے بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بنانے کی وہ شاندار کامیاب کوشش کی کہ لگڑ بگڑ سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ کس طرح اس محافظِ پاکستان کا جلسہ ناکام بنائیں۔
مولانا نے بلوچوں کے حقوق کی بات کی لیکن افہام و تفہیم سے، مولانا نے شکایت کی لیکن اپنوں کی طرح، مولانا نے بلوچستان کا حق مانگا لیکن فساد کر کے نہیں بلکہ جمہوری سیاسی للکار سے۔ مولانا نے بلوچوں کے سامنے ریاستِ پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کی کامیابیوں کا برملا اعتراف بھی کیا اور بلوچوں سے اس پر داد بھی دلوائی۔ انڈیا جو بلوچستان میں پوری طرح دخیل ہے، اس کی پھینٹی کی بات کی، تعریف کی کہ فوج نے کیا ہی دلیرانہ عمل کیا، اس کی تائید اور اس پر شاباشی دی۔
مجھے بتایا جائے مولانا کے علاوہ بلوچستان کے اتنے بڑے جلسے میں کون یہ جگرہ رکھتا ہے؟
ایسی آواز جو پاکستان کی قومی یکجہتی کے بارے میں اتنی منصفانہ اور مخلصانہ ہو، اس کا میڈیا بلیک آؤٹ کر رہا ہے تو ایک عام پاکستانی تو سوچے گا کہ یہ میڈیا پاکستان کا ہے یا کسی اور کا؟ یہ بلوچستان میں پاکستان کی لگتی آواز کو کیوں مجرمانہ طور پر نظرانداز کر رہا ہے؟
ایک سیاسی کارکن سوچے گا تو سہی کہ بلوچستان میں پاکستان کی صدا کو کون دبا رہا ہے؟ ادارے کیا چاہتے ہیں؟ خانم بدہن کہیں توڑنے کا پلان تو نہیں چل رہا؟ لیکن ایسے تمام ناہنجار جان رکھیں، جمعیۃ علماء اسلام مولانا کی قیادت میں سیاسی، جمہوری، آئینی اور پُرامن جدوجہد سے ایسے سارے منصوبوں کو خاک میں ملا دے گی۔
معلوم نہیں مقتدرہ کہاں سے سوچتی ہے۔ پیٹرول ہزار روپے فی لیٹر کر کے، بلیک کر دیا گیا، رکاوٹیں پیدا کی گئیں، میڈیا جو افسران واٹس ایپ پر چلاتے ہیں، نے پاکستان کی مضبوط آواز کو دکھانے سے روکا۔۔۔
مولانا چاروں صوبوں میں ریاستِ پاکستان کی واحد نڈر، صاف ستھری اور واضح صدا ہیں۔ مولانا کے بغیر ریاستِ پاکستان ادھوری ہے۔ مولانا ہی وہ اجلا شفاف کردار ہیں جس نے نہ تو پاکستان کا مال چوری کیا، نہ ہی نظریہ مٹنے دیا اور نہ ہی تقسیم ہونے دے رہے ہیں۔
ہمارے یہ پینٹ کوٹ والے بابوؤں کو سمجھ کیوں نہیں آ رہی کہ گولڈن پگڑی میں لپٹا گولڈن انسان ہی پاکستان کی بقا کی علامت ہے۔
مولانا نے بلوچستان میں سندھ کے راشد سومرو اور کے پی کے ضیاء الرحمٰن کو بلوچوں کے سامنے کیا۔ بلوچوں نے راشد، ضیاء و دیگر کو وہی رسپانس دیا جو وہ مولانا واسع کو دے رہے تھے، بلکہ سندھی راشد سومرو کی آواز کی ہر تار سے بلوچوں کے جذبات میں تلاطم اٹھتا تھا۔۔۔
مولانا دفاعِ پاکستان و نظریۂ پاکستان کی چومکھی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے نشانے پر بھی ہیں اور بابوؤں کے اوچھے ہتھکنڈوں کا ہدف بھی ہیں۔ درباری ملاؤں کے ناوکِ دشنام پر بھی ہیں اور بلاول میڈیا کی بزدلی سے بھی نبرد آزما ہیں۔ مولانا سیاستدانوں کی دجل و دھوکا دہی کو بھی سہہ رہے ہیں اور عالمی استعمار کی پالیسیوں سے بھی حالتِ جنگ میں ہیں۔
حضرت عثمانؓ کی طرح ان کے قدموں کی دھول کو مولانا آنکھوں کا سرمہ بنا کر ان کا کردار نبھا رہے ہیں کہ جان جاتی ہے چلی جائے لیکن ملک میں خوں ریزی نہ ہو۔ سیٹیں جاتی ہیں تو جائیں۔ ابھی بلوچستان کے ضمنی انتخابات میں ایک بار پھر جمعیت سے نشستیں بزورِ بندوق چھینی گئی ہیں، لیکن مولانا نے نہ تو علیحدگی کی بات کی، نہ ہی جلاؤ گھیراؤ کی طرف گئے بلکہ سیاسی عمل جاری رکھنے کی بات کر رہے ہیں۔
مولانا جنازے اٹھا رہے ہیں، جفائیں برداشت کر رہے ہیں، کردار کشی کی مہمات کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن نہ تو خود مایوس ہیں نہ ہی کارکنان کو مایوسی کا شکار کر رہے ہیں۔
جتنے سیاسی مظالم مقتدرہ نے جمعیت کے ساتھ کیے ہیں، پاکستانی تاریخ میں کسی اور جماعت کے ساتھ نہیں ہوئے۔ جن لاڈلوں کو مقتدرہ نے صرف ناراضی دکھائی تو اگلوں نے پتلون چوک میں لہرا دی تھی۔۔
لیکن مولانا وضع دار سیاست کرتے ہیں۔
بہرحال، ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میں سوال کرنے کا حق رکھتا ہوں کہ بلوچستان میں پاکستان کی آواز کے ساتھ سوتیلا سلوک میڈیا اور مقتدرہ نے کیوں کیا؟
مولانا ہی ریاست بچا رہے ہیں۔ وہ قومی عصبیت، لسانی تعصب، مسل-ح جدوجہد، علیحدگی پسندی، گروہ پرستی، انتشاری سیاست اور فسادی اقدامات سے پاک ہیں، تو مقتدرہ کیوں ان کا راستہ روک رہی ہے؟
نوفل ربانی

06/07/2026

ایسے بہادر دوست کو مینشن کریں۔😭

06/07/2026

23th Pashto Mini Vlog,☺️

06/07/2026

Address

New York
New City, NY
10956

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rahim Reaction posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share