06/14/2026
فیض آباد دھرنے کا ایک آنکھوں دیکھا واقعہ یاد آ رہا ہے
جب فیض آباد میں آپریشن ہوا اور خادم حس ین رض وی مرحوم سمیت قیادت کنٹینر پر موجود تھی تو فورسز دھرنے کے بالکل قریب پہنچ چکی تھیں اور گرفتاریوں کا خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا اس وقت سٹیج کے اردگرد موجود کارکنوں نے شدید آنسو گیس لاٹھی چارج اور بدترین دباؤ کے باوجود میدان نہیں چھوڑا... انہوں نے ثابت قدمی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ فورسز کو وقتی طور پر پیچھے ہٹنا پڑا...جیسے ہی صبح ہوئی راولپنڈی اور اسلام آباد کے مدارس سے ہزاروں طلبہ فیض آباد کی طرف روانہ ہو گئے وہ نہتے تھے ان کے پاس کوئی طاقت نہیں تھی لیکن ان کے پاس تعداد تھی جذبہ تھا اور اظہارِ یکجہتی کا عزم تھا دیکھتے ہی دیکھتے اتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے کہ حالات کا رخ بدل گیا اور فورسز کے لیے اس دباؤ کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا...اس واقعے سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ تعداد ہمیشہ معنی رکھتی ہے جب لوگ گھروں سے نکلتے ہیں جب آس پاس کے علاقوں سے لوگ یکجہتی کے لیے پہنچتے ہیں جب دور دراز کے لوگ بھی اپنے ساتھیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں تو حالات بدلتے ہیں اور دباؤ پیدا ہوتا ہے...اگر کسی تحریک دھرنے یا احتجاج کو مضبوط کرنا ہے تو یہ نہ سوچیں کہ ایک فرد یا چند لوگ کچھ نہیں کر سکتے تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام بڑی تعداد میں میدان میں اترتے ہیں تو بڑے بڑے فیصلے بدل جاتے ہیں خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنی موجودگی سے فرق پیدا کریں کیونکہ تعداد صرف گنتی نہیں ہوتی تعداد ایک طاقت ہوتی ہے....