02/05/2026
“10 لاکھ روسیوں کو یہودی بنانا؟”
ایپسٹ ین دستاویزات میں ایک نہایت سنگین اور حساس انکشاف ہوا ہے۔ ان فائلوں میں ایک خفیہ آڈیو ریکارڈنگ کا ذکر ہے، جس میں اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک اور بدنام زمانہ امریکی فنانسر ایپسٹ ین کے درمیان گفتگو سنائی دیتی ہے۔ آڈیو میں ایہود باراک نے اسرائیل کی آبادی اور ریاستی ساخت میں “بنیادی تبدیلی” کے لیے روس سے 10 لاکھ افراد اسرائیل لانے کی بات کی ہے۔
باراک کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل کو مزید 10 لاکھ روسی النسل افراد مل جائیں تو اس سے نہ صرف آبادیاتی توازن بدلے گا بلکہ اسرائیلی معاشرہ معاشی، ثقافتی اور سماجی طور پر بھی یکسر مختلف شکل اختیار کر لے گا۔ یہ تبدیلی “انتہائی ڈرامائی” ہوگی اور اسرائیل اس تعداد کو باآسانی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
باراک اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ اب اسرائیل کو ماضی کی طرح ہر آنے والے کو قبول کرنے کی ضرورت نہیں۔ ماضی میں ہجرت کا مقصد “لوگوں کو بچانا” تھا، اس لیے ہر کسی کو قبول کر لیا جاتا تھا، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ اسرائیل کو اب ہجرت کے معاملے میں زیادہ انتخابی (Selective) ہونا چاہیے اور آنے والوں کے “معیار” کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
اس آڈیو کا سب سے متنازع پہلو یہ ہے کہ باراک نے یہودی ہونے کی تعریف کو وسیع کرنے کی بات بھی کی کہ حالات کی مجبوری ایسی “لچک” پیدا کر سکتی ہے جس کے ذریعے ماضی کی مذہبی رکاوٹوں کو عبور کیا جا سکے۔ سماجی دباؤ کے ذریعے نئے آنے والوں کا انضمام تیز کیا جا سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر یہودیت اختیار کروانے کے عمل کو بھی آسان بنایا جا سکتا ہے۔ اس نے اس مؤقف کو درست ثابت کرنے کے لیے توراتی شخصیات کی مثالیں بھی دیں۔
آڈیو میں باراک یہ بھی کہتا ہے کہ وہ اس سے پہلے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی بات کر چکا ہے کہ اسرائیل کو “صرف 10 لاکھ نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ افراد” کی ضرورت ہے۔ اس نے 1990 کی دہائی کی مثال دی، جب سابق سوویت یونین سے تقریباً 10 لاکھ روسی نژاد افراد اسرائیل آئے تھے، جنہوں نے اسرائیلی معیشت اور ثقافت کو نئی شکل دی۔
ماہرین کے مطابق، یہ لیک اسرائیلی معاشرے میں دو بڑے بحران پیدا کر سکتی ہے۔ پہلا بحران شناخت کا ہے، کیونکہ یہ آڈیو ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتی ہے کہ “یہودی کون ہے؟” اور کیا سابق سوویت ریاستوں سے آنے والے تمام افراد واقعی مذہبی بنیاد پر یہودی سمجھے جا سکتے ہیں، یا محض آبادیاتی اور سیاسی مفادات کے تحت انہیں یہودی تسلیم کیا گیا۔ دوسرا بحران نسلی اور سماجی تقسیم سے متعلق ہے۔ باراک کا “معیار” اور “انتخاب” پر زور دینا بہت سے لوگوں کے نزدیک ان یہودیوں کی تضحیک کے مترادف ہے جو عرب دنیا اور شمالی افریقہ سے آئے تھے اور جنہیں اسرائیل کے قیام کے بعد سخت اور جبری حالات میں منتقل کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ لیک ایک بار پھر اسرائیل میں اشکنازی (یورپی نژاد) اور سفاردی و مزراحی (مشرقی و عرب ممالک سے آنے والے) یہودیوں کے درمیان پرانی کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہے۔ یہ انکشاف اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ اسرائیلی ریاست کی اشرافیہ خود کو ثقافتی اور سماجی طور پر برتر سمجھتی ہے، جبکہ مشرقی پس منظر رکھنے والے یہودی خود کو دہائیوں سے محرومی کا شکار سمجھتے ہیں۔
ایہود باراک اسرائیل کی اشکنازی اشرافیہ کی نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔ وہ 1942 میں فلسطین کے علاقے کبوتز مشمار ہشارون میں پیدا ہوا۔ اس کے والد لیتھوانیا اور والدہ پولینڈ سے ہجرت کر کے آئے تھے، جو یورپی یہودیوں کے تاریخی مراکز شمار ہوتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق، اس لیک میں اصل خطرناک بات یہی ہے کہ یہ اسرائیلی ریاست کی بنیادوں، شناخت اور سماجی انصاف سے متعلق ایسے سوالات کو دوبارہ زندہ کر رہی ہے، جو پہلے ہی اسرائیلی سیاست اور معاشرے کو گہرے طور پر تقسیم کیے ہوئے ہیں۔(الجزیرہ)