Daily News Pakistan

Daily News Pakistan Welcome to page where we dive deep into the culture, history, and untold stories from around the world. Tune in for fresh episodes and insightful cont

Join us as we explore unique perspectives, inspiring conversations, and fascinating events.

09/14/2026

بے حیائی کی بھی حد ہوتی ہے جو اس عورت میں بالکل بھی نہین ہے



09/13/2026
 # نئی اردو سسپنس کہانی یوٹیوب پر! "**وہ لڑکی جو مجھے جانتی تھی**" - قسط 1 جلد آرہی ہے!کیا آپ ایک سسپنس سے بھری اور دلچس...
09/09/2026

# نئی اردو سسپنس کہانی یوٹیوب پر! "**وہ لڑکی جو مجھے جانتی تھی**" - قسط 1 جلد آرہی ہے!
کیا آپ ایک سسپنس سے بھری اور دلچسپ کہانی کے لیے تیار ہیں؟ اگر ہاں، تو آپ کا انتظار ختم ہونے والا ہے!
ہمارے یوٹیوب چینل پر ایک نیا اردو ناول (ویب سیریز) آنے والا ہے، جس کا عنوان ہے "**وہ لڑکی جو مجھے جانتی تھی**"۔
# # کہانی کا خلاصہ (قسط 1 کے لیے)
یہ کہانی ہے ارحم کی، ایک عام سا لڑکا جس کی زندگی ایک بارش بھری شام میں بدل جاتی ہے۔ وہ ایک پراسرار لڑکی سے ملتا ہے جس کے ہاتھ میں سفید چھتری ہے۔ وہ لڑکی اسے نام سے جانتی ہے، لیکن وہ اسے نہیں جانتا۔
وہ لڑکی ارحم سے کہتی ہے کہ وہ اسے بہت پہلے سے جانتی ہے۔ اس کے پاس ایک پرانی تصویر ہے، جو بیس سال پرانی ہے، جس میں وہ لڑکی اور ارحم کے مرحوم والد ساتھ کھڑے ہیں۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ تصویر میں بھی وہ لڑکی بالکل ویسی ہی نظر آتی ہے جیسے آج ہے!
اس لڑکی کا ارحم کے والد کے ماضی سے کیا تعلق ہے؟ اور اس پرانی تصویر میں کیا راز چھپا ہے؟ کیا ارحم اپنے والد کی موت کی حقیقت جان پائے گا؟
یہ سب جاننے کے لیے، **قسط 1: وہ پہلی ملاقات** جلد ہی ہمارے چینل پر نشر ہوگی۔
# # # کیا کریں:
1. فورا ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں!
2. نوٹیفکیشن بیل کو آن کریں تاکہ آپ قسط 1 مس نہ کریں!
ہم جلد ہی قسط 1 کے ساتھ حاضر ہوں گے!
#سسپنس کہانی #اردو ناول #پراسرار کہانی #نئی ویب سیریز #یوٹیوب ڈرامہ #اردو سسپنس

09/08/2026

Molive k Halat




09/08/2026

Youtube channle Khalil Ahmad khosa ko su subscribe kare
For govt and private jobs i share on the youtube channle

09/08/2026

Subscribe my Youtube Channle
KHALIL AHMAD KHOSA FOR GOVT AND PRIVATE JOBS I SHARE ON THE YOITUBE CHANNLE

09/08/2026

ام کا جوس چاہیئے

حضرت امیر معاویہؓ حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہیں۔ایک شہزادہ آکر کہتا ہے"یا رسول اللّٰہ ﷺ !میں عیسائیوں کا شہزادہ ...
09/06/2026

حضرت امیر معاویہؓ حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہیں۔ایک شہزادہ آکر کہتا ہے
"یا رسول اللّٰہ ﷺ !میں عیسائیوں کا شہزادہ ہوں
غستان کی ریاست سے آیا ہوں، میرا باپ بادشاہ ہے
میں نے تورات اور انجیل میں اپنے راہبوں اور پادریوں سے سنا ہے کہ آپ آخرالزمان نبی ہیں،
میں اس علاقے میں آیا تھا
‏تو میں زیارت کیلئے آگیا،
وہ چلنے لگا تو کہنے لگا یا رسول اللّٰہﷺ !
میں اگر تحفہ اور ہدیہ آپ ﷺ کو دوں تو آپ ﷺ قبول کرینگے؟"
حضور اکرمﷺ نے فرمایا ضرور میں تیرا تحفہ قبول کرونگا،
اب وہ رخصت ہوتا ہے تو کہتا ہے میرا سامان چھ میل کی فاصلے پر ایک جگہ پڑا ہے،
‏آپ ﷺ کسی خادم کو میرے ساتھ بھیج دیں جو ہدیہ لے آئے حضور ﷺ کے خصوصی خدام میں حضرت انسؓ اور حضرت زیدؓ کا نام مشہور ہے،
لیکن اس وقت ان دونوں میں کوئی نہیں تھا،
حضرت معاویہؓ حضور نبی کریمﷺ کی خدمت میں بیٹھے تھے اور ان کی عمر 24 سال تھی،
حضورنبی کریمﷺ نے فرمایا معاویہ !جاؤ اس عیسائی ‏شہزادے کے ساتھ جاؤ,
جو چیز تمہیں دے لے آؤ۔ حضرت معاویہؓ اس شہزادے کیساتھ چل پڑے
حضرت معاویہؓ جب چلے حضور نبی اکرمﷺ کا حکم تھا کہ چلو وہ چل پڑے۔
جوتا ان کا دوسری طرف پڑا تھامسجد کے،
جوتا نہیں پہنا کہ حضورﷺ کا حکم ہے
چلو اور یہ شہزادہ جارہا ہے میں اس کے ساتھ چلوں.
اب شہزادہ مسجد سے ‏باہر نکلا
حضرت معاویہؓ بھی نکلے عرب کی گرمی, دھوپ ہے,ریت ہے,صحرا ہے,
جب باہر مدینہ سے نکلے،حضرت معاویہؓ کے پاؤں جلنے لگے تو حضرت معاویہؓ نے اس شہزادے سے کہا کہ "اپنا جوتا مجھے دے دو یا اپنی سواری پر سوار کرلو میرے پاس جوتا نہیں۔"
تو اس شہزادے نے کہا کہ تو نوکر ہے, غلام ہے، میں شہزادہ ہوں۔ میں کمیوں کو اپنا جوتا کیسے دے دوں تو نوکر ہے
حضرت معاویہؓ تو مکہ کے سردار ابوسفیانؓ کے لڑکے تھے,لیکن آج تو حکم پیغمبر آقا ﷺ کا تھا،
حضرت معاویہؓ خاموش ہوگئے اور چھ میل تک اس گھڑسوار شہزادے کیساتھ عرب کی دھوپ اور ریت میں امیر معاویہؓ بھاگتے رہے
چھ میل بعد اس کا پڑاؤ آیا
اس ‏نے حضرت معاویہؓ کو سامان دیا
حضرت معاویہؓ سامان لے کر واپس آئے،
حضور اکرمﷺ نے پوچھا معاویہؓ تم کیسے گئے اور کیسے آئے؟
حضرت معاویہؓ نے سارا واقعہ بیان کیا، حضور نبی کریم ﷺ بڑے خوش ہوئے کہ بغیر جوتے کے دھوپ میں گیا۔
تجھے اس نے غلام کہا تو تم واپس کیوں نہیں آئے؟
حضرت معاویہؐ نے فرمایا:
‏یا رسول اللّٰہﷺ حکم آپ ﷺ کا تھا
میرے تو پاؤں جلتے ہیں
میرا جسم بھی جل جاتا تو معاویہ واپس نہیں آتا،
حضور نبی اکرم ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا:
کہ میرے امت کا سب سے بڑے حوصلے والا معاویہ بن ابی سفیان ہے۔
اس واقعے کے وقت حضرت معاویہؓ کی عمر 24 سال تھی
‏پورے 34 سال گزر جانے کے بعد جب حضرت معاویہؓ دمشق کے تخت پر خلیفہ بنے اور ساری دنیا کے نصف حصّے سے زیادہ پر حضرت معاویہؓ کو حکومت ملی اور تن تنہا دنیا میں اتنے بڑے اسلامی حکمران بنے
حضرت معاویہؓ کی فوجیں ملک غستان کو فتح کرنے گیئں.
تین مہینے بعد فوج واپس آئی تو مبارک باد پیش کی گئی
کہا امیرالمونین!
غستان فتح ہوگیااور ہم چھ ہزار قیدی قید کرکے لائے ہیں(سپہ سالار نے کہا)۔
حضرت معاویہؓ کے دربار میں جب وہ چھ ہزار قیدی پیش کیے گئے
ان کے ہاتھ اور پاؤں رسیوں سے بندھے ہوئے تھے.
حضرت معاویہؓ نے ان قیدیوں کو دیکھا تو سب سے آگے جو قیدی تھا وہی غستان کی ریاست کا شہزادہ تھا۔
‏جس شہزادہ نے معاویہؓ کو پہننے کیلئے جوتا نہیں دیا تھا
اور حضرت معاویہؓ نے دیکھا کہ یہ وہی شہزادہ ہے۔
پہچان لیا۔ حضرت معاویہؓ نے فرمایا! شہزادے کو میرے مہمان خانے لے جاؤ.
ایک مہینہ تک حضرت معاویہؓ اپنے مہمان خانے میں اس کی میزبانی کرتے رہے.
اس نے نہیں پہچانا کہ یہ امیر المومنین ہیں، ‏یہ حضرت معاویہؓ وہی پیغمبر آقا ﷺ کا غلام ہے
جس کو میں نے کمی/نیچ کہا تھا
اس نے نہیں پہچانا،
جب ایک مہینہ بعد وہ جانے لگا،
تو معاویہؓ نے فرمایا کہ میں نے تیری وجہ سے سارے قیدیوں کو رہا کردیا اور تجھے بھی رہا کیا۔ اب وہ رخصت ہوتا ہے دس ہزار درہم معاویہؓ نے اسے ہدیہ کے طور پر دیے۔
‏تو وہ لوگوں سے پوچھتا ہے یہ کون ہے؟
انہوں نے بتایا کہ یہ امیر معاویہؓ بن ابوسفیان ہے
سفیان کا لڑکا ہے؟
رسول اللّٰہﷺ کا غلام ہے۔
اب اسکے ذہن میں آیا کہ یہ تو وہی نوجوان ہے جس کو میں نے پہننے کیلیے جوتا نہیں دیا تھا۔
اور میں نے اس کو کہا تھا کہ تو "کم تر" ہے
اب اس کی آنکھیں شرم سے ‏جھک گئیں،
حضرت معاویہؓ کے پاس آکر کہنے لگا: امیرالمونین!
آپ وہی معاویہؓ ہیں جو میرے ساتھ پیدل گیے تھے۔۔؟؟
حضرت معاویہؓ نے فرمایا اے شہزادے ! ہاں میں محمد ﷺ کا وہی غلام ہوں,میں وہی نوکر ہوں
اس نے کہا میں شرمندہ ہوں۔حضرت معاویہؓ نے فرمایا میں نے تجھے پہلی مرتبہ ہی پہچان لیا تھا اور سب کچھ ‏میں نے پہچاننے کے بعد کیا۔
تیرا اخلاق یہ تھا کہ تو نے مجھے جوتا نہ دیا.
شاید تیرے مذہب نے تجھے یہ اخلاق سکھایا ہوگا۔
اور میرااخلاق یہ تھاکہ تو نے میرے ساتھ جو سلوک کیا میں نے وہ تجھے بتلایا بھی نہیں،
میں نےوہ تجھے پوچھا بھی نہیں،
میں نے پہچان کر تیری رسیاں کھلوایئں۔
میں نے پہچان کر تیرے ‏ہاتھ کھلوائے
اور پہچان کر تجھے مہمان بنایا،
پہچان کر تجھے دس ہزار درہم دیئے۔
وہ زاروقطار رونے لگا اور کہنے لگا امیرالمونین !
"میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار دیکھےتیرے سے زیادہ کوئی حوصلے والا نہیں دیکھا مجھے جلدی کلمہ پڑھا کر مسلمان کر دیجئے۔"
اسی بات کو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا.....احلم_من_امتی_معاویہ....
میری امت کا سب سے بڑا حوصلے والا معاویہ بن ابی سفیان ہے۔۔۔
انتباہ: یہ واقعہ غیر مستند ہے، اور اس کی تردید کے 3 مختصر حوالہ جات یہ ہیں:

1️⃣ امام ابنِ حجر عسقلانی – “لسان المیزان”

انہوں نے “اَحْلَمُ أُمَّتِي مُعَاوِيَة” والی روایت کو موضوع (من گھڑت) قرار دیا۔

2️⃣ علامہ ذہبی – “میزان الاعتدال”

ذہبی نے بھی اس روایت کے راویوں کو ضعیف و غیر قابلِ اعتماد کہا اور واقعے کی کوئی اصل ثابت نہیں کی۔

3️⃣ علامہ البانی – “السلسلة الضعیفة” (حدیث 496)

البانی نے اس روایت کو باطل (False) قرار دیا اور واضح لکھا کہ اس کی کوئی سندِ صحیح موجود نہیں۔

دلچسپ و عجیب تاریخ

بھارت کا جاسوس جسے پکڑنا نہ ممکن تھا جس نے پاکستان میں وکالت کی تعلیم حاصل کی پاکستان میں شادی کی اورپاک فوج میں  ملازمت...
09/06/2026

بھارت کا جاسوس جسے پکڑنا نہ ممکن تھا جس نے پاکستان میں وکالت کی تعلیم حاصل کی پاکستان میں شادی کی اور
پاک فوج میں
ملازمت بھی کی

رویندر کوشک 11 اپریل 1952 کو سری گنگانگر، راجستھان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بھارتی فضائیہ میں افسر تھے۔ کوشک نے کالج میں Commerce کی تعلیم حاصل کی اور تھیٹر میں بھی حصہ لیتے تھے۔
1973 میں لکھنؤ میں ایک قومی ڈرامہ مقابلے میں ان کی اداکاری نے بھارتی انٹیلی جنس حکام کی توجہ حاصل کی۔ اس کے بعد بھارتی خفیہ ادارے RAW (Research and Analysis Wing) نے انہیں خفیہ مشن کے لیے منتخب کیا۔

رپورٹس کے مطابقRAWنے انہیں پاکستان میں طویل عرصے تک خفیہ شناخت کے ساتھ رہنے کے لیے تیار کیا۔ ان کی شناخت تبدیل کرکے نبی احمد شاکر (Nabi Ahmed Shakir) بنائی گئی۔
تربیت میں اردو، پاکستانی معاشرہ، اسلام اور پاکستان کے جغرافیے وغیرہ سے واقفیت شامل تھی۔ بعض روایات کے مطابق ان کے بھارت میں موجود سرکاری ریکارڈ بھی ختم کر دیے گئے تاکہ ان کا ماضی تلاش کرنا مشکل ہو۔

تقریباً 1975 میں 23 سال کی عمر میں وہ پاکستان گئے۔
انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کی اطلاعات ملتی ہیں اور پھر پاکستان کے فوجی نظام میں ملازمت حاصل کی۔
یہاں ایک دلچسپ اختلاف ہے:
کچھ بھارتی ذرائع انہیں پاکستان آرمی کا میجر قرار دیتے ہیں۔
لیکن زیادہ محتاط ذرائع، جن میں سابق بھارتی انٹیلی جنس افسران کی تحریروں کا حوالہ بھی آتا ہے، کہتے ہیں کہ وہ Military Accounts Department میں کلرک/ملازم تھے، commissioned army officer نہیں۔
اس لیے "پاکستان آرمی کا میجر" والی بات کو قطعی حقیقت کے بجائے متنازع دعویٰ سمجھنا بہتر ہے۔

1979 سے 1983 تک ان کی مبینہ جاسوسی سرگرمی اپنے عروج پر تھی۔
بھارتی ذرائع کے مطابق وہ پاکستان کے فوجی نظام کے اندر رہتے ہوئے بھارت کو معلومات پہنچاتے تھے، جن میں:
فوجی یونٹس کی نقل و حرکت
اہم افسران کی تعیناتیاں
جنگی سازوسامان کی نقل و حرکت
پاکستان کے دفاعی منصوبوں سے متعلق معلومات
کہوٹہ کے جوہری پروگرام سے متعلق بعض معلومات
شامل تھیں۔
تاہم ان معلومات کی اصل مقدار اور ان سے بھارت کو کتنا فائدہ ہوا، اس کی مکمل آزادانہ تصدیق عوامی ریکارڈ میں موجود نہیں۔ بعد کی کہانیوں میں "ہزاروں جانیں بچانے" جیسے دعوے بھی ملتے ہیں، مگر انہیں احتیاط سے لینا چاہیے۔

رپورٹس کے مطابق نبی احمد شاکر کی حیثیت سے انہوں نے ایک پاکستانی خاتون امانت (Amanat) سے شادی کی اور ان کا ایک بچہ بھی ہوا۔ بھارتی ذرائع کے مطابق ان کی اہلیہ کو ان کی اصل بھارتی شناخت کا علم نہیں تھا۔
یعنی وہ صرف چند مہینوں یا ایک دو سال کے لیے نہیں بلکہ تقریباً آٹھ سال تک ایک مکمل جعلی شناخت کے ساتھ پاکستانی معاشرے میں زندگی گزارتے رہے۔

بھارتی ذرائع کے مطابق ان کی فراہم کردہ معلومات کی وجہ سے بھارتی انٹیلی جنس حلقوں میں ان کی بہت قدر ہوئی اور انہیں "Black Tiger" کا نام دیا گیا۔
کئی بھارتی رپورٹس دعویٰ کرتی ہیں کہ یہ نام اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے دیا تھا۔
پھر سب کچھ کیسے ختم ہوا؟
اصل موڑ 1983 میں آیا۔
RAW جب
نے انایت مسیح
(Inayat Masih) نامی ایک دوسرے ایجنٹ کو کوشک سے رابطہ کرنے کے لیے بھیجا۔
لیکن انایت مسیح پاکستانی انٹیلی جنس کے ہاتھ پکڑے گئے۔ ان سے تفتیش کے بعد پاکستانی حکام کو کوشک تک پہنچنے میں مدد ملی۔ رپورٹس کے مطابق کوشک کو ستمبر 1983 میں گرفتار کر لیا گیا۔
یہاں ایک اہم بات ہے: دستیاب بھارتی انٹیلی جنس پر مبنی مواد کے مطابق کوشک کا پردہ فاش صرف اس لیے نہیں ہوا کہ انہوں نے کوئی معمولی غلطی کی؛ ان سے رابطے کے لیے بھیجے گئے دوسرے ایجنٹ کی گرفتاری نے ان کا پورا نیٹ ورک خطرے میں ڈال دیا۔

گرفتاری کے بعد انہیں مختلف پاکستانی حراستی مراکز اور جیلوں میں رکھا گیا، جن میں سیالکوٹ، کوٹ لکھپت اور میانوالی شامل تھے۔
بھارتی ذرائع میں ان کے ساتھ سخت تفتیش اور تشدد کے دعوے موجود ہیں۔ بعد میں ان کی صحت بھی بہت خراب ہو گئی۔
1985 میں انہیں سزائے موت سنائی گئی، لیکن بعد میں یہ سزا تبدیل ہو کر عمر قید بن گئی۔

یہ شاید پوری کہانی کا سب سے افسوسناک حصہ ہے۔
وہ 1983 میں پکڑے گئے اور 2001 تک پاکستانی جیلوں میں رہے—تقریباً 16 سال۔
ان کے خاندان کے مطابق انہوں نے جیل سے خفیہ خطوط بھی بھیجے، جن میں اپنی خراب صحت اور حالات کا ذکر کیا۔ ایک مشہور منسوب خط میں انہوں نے شکایت کی کہ ملک کے لیے قربانی دینے والے شخص کے ساتھ ایسا سلوک کیوں ہو رہا ہے۔

21 نومبر 2001 کو رویندر کوشک کا انتقال میانوالی جیل میں ہوا۔
رپورٹس کے مطابق ان کی موت کی بڑی وجوہات میں pulmonary tuberculosis (پھیپھڑوں کا ٹی بی) اور دل کی بیماری شامل تھیں۔
ان کی تدفین کے بارے میں بھی مختلف رپورٹس موجود ہیں، لیکن بھارتی ذرائع میں یہ بتایا جاتا ہے کہ انہیں جیل کے قریب دفن کیا گیا۔
ایک بہت دلچسپ اور تلخ پہلو
ان کے خاندان نے بعد میں بھارتی حکومت سے شکایت کی کہ حکومت نے ان کی قربانی کو مناسب طور پر تسلیم نہیں کیا اور ان کی رہائی کے لیے کافی کوشش نہیں کی۔ تاہم یہ خاندان کا مؤقف ہے؛ اس معاملے کی تمام تفصیلات عوامی طور پر ثابت نہیں ہیں۔
اور ایک عجیب اتفاق یہ بھی ہے کہ ان کی کہانی کو بعد میں فلموں کے کرداروں سے جوڑا گیا۔ ان کے خاندان نے Ek Tha Tiger کے ساتھ مماثلت کا دعویٰ کیا تھا، لیکن فلم کے ہدایت کار نے اس بات سے انکار کیا کہ فلم کوشک کی زندگی پر مبنی تھی۔
مختصراً: اگر بھارتی ذرائع کے بیان کو سامنے رکھیں تو کوشک نے تقریباً 8 سال پاکستان میں ایک عام پاکستانی شہری کی شناخت میں گزارے، شادی اور خاندان بنایا، پاکستانی فوجی نظام میں ملازمت کی، خفیہ معلومات بھارت پہنچائیں، پھر 1983 میں گرفتار ہوئے، عمر قید کاٹی اور 2001 میں جیل میں انتقال کر گئے۔ لیکن "میجر" ہونے اور ان کی فراہم کردہ معلومات سے "ہزاروں جانیں بچنے" جیسے دعوے پوری طرح غیر متنازع تاریخی حقائق نہیں ہیں۔

Address

12
New York, NY

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily News Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share