09/06/2026
حضرت امیر معاویہؓ حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہیں۔ایک شہزادہ آکر کہتا ہے
"یا رسول اللّٰہ ﷺ !میں عیسائیوں کا شہزادہ ہوں
غستان کی ریاست سے آیا ہوں، میرا باپ بادشاہ ہے
میں نے تورات اور انجیل میں اپنے راہبوں اور پادریوں سے سنا ہے کہ آپ آخرالزمان نبی ہیں،
میں اس علاقے میں آیا تھا
تو میں زیارت کیلئے آگیا،
وہ چلنے لگا تو کہنے لگا یا رسول اللّٰہﷺ !
میں اگر تحفہ اور ہدیہ آپ ﷺ کو دوں تو آپ ﷺ قبول کرینگے؟"
حضور اکرمﷺ نے فرمایا ضرور میں تیرا تحفہ قبول کرونگا،
اب وہ رخصت ہوتا ہے تو کہتا ہے میرا سامان چھ میل کی فاصلے پر ایک جگہ پڑا ہے،
آپ ﷺ کسی خادم کو میرے ساتھ بھیج دیں جو ہدیہ لے آئے حضور ﷺ کے خصوصی خدام میں حضرت انسؓ اور حضرت زیدؓ کا نام مشہور ہے،
لیکن اس وقت ان دونوں میں کوئی نہیں تھا،
حضرت معاویہؓ حضور نبی کریمﷺ کی خدمت میں بیٹھے تھے اور ان کی عمر 24 سال تھی،
حضورنبی کریمﷺ نے فرمایا معاویہ !جاؤ اس عیسائی شہزادے کے ساتھ جاؤ,
جو چیز تمہیں دے لے آؤ۔ حضرت معاویہؓ اس شہزادے کیساتھ چل پڑے
حضرت معاویہؓ جب چلے حضور نبی اکرمﷺ کا حکم تھا کہ چلو وہ چل پڑے۔
جوتا ان کا دوسری طرف پڑا تھامسجد کے،
جوتا نہیں پہنا کہ حضورﷺ کا حکم ہے
چلو اور یہ شہزادہ جارہا ہے میں اس کے ساتھ چلوں.
اب شہزادہ مسجد سے باہر نکلا
حضرت معاویہؓ بھی نکلے عرب کی گرمی, دھوپ ہے,ریت ہے,صحرا ہے,
جب باہر مدینہ سے نکلے،حضرت معاویہؓ کے پاؤں جلنے لگے تو حضرت معاویہؓ نے اس شہزادے سے کہا کہ "اپنا جوتا مجھے دے دو یا اپنی سواری پر سوار کرلو میرے پاس جوتا نہیں۔"
تو اس شہزادے نے کہا کہ تو نوکر ہے, غلام ہے، میں شہزادہ ہوں۔ میں کمیوں کو اپنا جوتا کیسے دے دوں تو نوکر ہے
حضرت معاویہؓ تو مکہ کے سردار ابوسفیانؓ کے لڑکے تھے,لیکن آج تو حکم پیغمبر آقا ﷺ کا تھا،
حضرت معاویہؓ خاموش ہوگئے اور چھ میل تک اس گھڑسوار شہزادے کیساتھ عرب کی دھوپ اور ریت میں امیر معاویہؓ بھاگتے رہے
چھ میل بعد اس کا پڑاؤ آیا
اس نے حضرت معاویہؓ کو سامان دیا
حضرت معاویہؓ سامان لے کر واپس آئے،
حضور اکرمﷺ نے پوچھا معاویہؓ تم کیسے گئے اور کیسے آئے؟
حضرت معاویہؓ نے سارا واقعہ بیان کیا، حضور نبی کریم ﷺ بڑے خوش ہوئے کہ بغیر جوتے کے دھوپ میں گیا۔
تجھے اس نے غلام کہا تو تم واپس کیوں نہیں آئے؟
حضرت معاویہؐ نے فرمایا:
یا رسول اللّٰہﷺ حکم آپ ﷺ کا تھا
میرے تو پاؤں جلتے ہیں
میرا جسم بھی جل جاتا تو معاویہ واپس نہیں آتا،
حضور نبی اکرم ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا:
کہ میرے امت کا سب سے بڑے حوصلے والا معاویہ بن ابی سفیان ہے۔
اس واقعے کے وقت حضرت معاویہؓ کی عمر 24 سال تھی
پورے 34 سال گزر جانے کے بعد جب حضرت معاویہؓ دمشق کے تخت پر خلیفہ بنے اور ساری دنیا کے نصف حصّے سے زیادہ پر حضرت معاویہؓ کو حکومت ملی اور تن تنہا دنیا میں اتنے بڑے اسلامی حکمران بنے
حضرت معاویہؓ کی فوجیں ملک غستان کو فتح کرنے گیئں.
تین مہینے بعد فوج واپس آئی تو مبارک باد پیش کی گئی
کہا امیرالمونین!
غستان فتح ہوگیااور ہم چھ ہزار قیدی قید کرکے لائے ہیں(سپہ سالار نے کہا)۔
حضرت معاویہؓ کے دربار میں جب وہ چھ ہزار قیدی پیش کیے گئے
ان کے ہاتھ اور پاؤں رسیوں سے بندھے ہوئے تھے.
حضرت معاویہؓ نے ان قیدیوں کو دیکھا تو سب سے آگے جو قیدی تھا وہی غستان کی ریاست کا شہزادہ تھا۔
جس شہزادہ نے معاویہؓ کو پہننے کیلئے جوتا نہیں دیا تھا
اور حضرت معاویہؓ نے دیکھا کہ یہ وہی شہزادہ ہے۔
پہچان لیا۔ حضرت معاویہؓ نے فرمایا! شہزادے کو میرے مہمان خانے لے جاؤ.
ایک مہینہ تک حضرت معاویہؓ اپنے مہمان خانے میں اس کی میزبانی کرتے رہے.
اس نے نہیں پہچانا کہ یہ امیر المومنین ہیں، یہ حضرت معاویہؓ وہی پیغمبر آقا ﷺ کا غلام ہے
جس کو میں نے کمی/نیچ کہا تھا
اس نے نہیں پہچانا،
جب ایک مہینہ بعد وہ جانے لگا،
تو معاویہؓ نے فرمایا کہ میں نے تیری وجہ سے سارے قیدیوں کو رہا کردیا اور تجھے بھی رہا کیا۔ اب وہ رخصت ہوتا ہے دس ہزار درہم معاویہؓ نے اسے ہدیہ کے طور پر دیے۔
تو وہ لوگوں سے پوچھتا ہے یہ کون ہے؟
انہوں نے بتایا کہ یہ امیر معاویہؓ بن ابوسفیان ہے
سفیان کا لڑکا ہے؟
رسول اللّٰہﷺ کا غلام ہے۔
اب اسکے ذہن میں آیا کہ یہ تو وہی نوجوان ہے جس کو میں نے پہننے کیلیے جوتا نہیں دیا تھا۔
اور میں نے اس کو کہا تھا کہ تو "کم تر" ہے
اب اس کی آنکھیں شرم سے جھک گئیں،
حضرت معاویہؓ کے پاس آکر کہنے لگا: امیرالمونین!
آپ وہی معاویہؓ ہیں جو میرے ساتھ پیدل گیے تھے۔۔؟؟
حضرت معاویہؓ نے فرمایا اے شہزادے ! ہاں میں محمد ﷺ کا وہی غلام ہوں,میں وہی نوکر ہوں
اس نے کہا میں شرمندہ ہوں۔حضرت معاویہؓ نے فرمایا میں نے تجھے پہلی مرتبہ ہی پہچان لیا تھا اور سب کچھ میں نے پہچاننے کے بعد کیا۔
تیرا اخلاق یہ تھا کہ تو نے مجھے جوتا نہ دیا.
شاید تیرے مذہب نے تجھے یہ اخلاق سکھایا ہوگا۔
اور میرااخلاق یہ تھاکہ تو نے میرے ساتھ جو سلوک کیا میں نے وہ تجھے بتلایا بھی نہیں،
میں نےوہ تجھے پوچھا بھی نہیں،
میں نے پہچان کر تیری رسیاں کھلوایئں۔
میں نے پہچان کر تیرے ہاتھ کھلوائے
اور پہچان کر تجھے مہمان بنایا،
پہچان کر تجھے دس ہزار درہم دیئے۔
وہ زاروقطار رونے لگا اور کہنے لگا امیرالمونین !
"میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار دیکھےتیرے سے زیادہ کوئی حوصلے والا نہیں دیکھا مجھے جلدی کلمہ پڑھا کر مسلمان کر دیجئے۔"
اسی بات کو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا.....احلم_من_امتی_معاویہ....
میری امت کا سب سے بڑا حوصلے والا معاویہ بن ابی سفیان ہے۔۔۔
انتباہ: یہ واقعہ غیر مستند ہے، اور اس کی تردید کے 3 مختصر حوالہ جات یہ ہیں:
1️⃣ امام ابنِ حجر عسقلانی – “لسان المیزان”
انہوں نے “اَحْلَمُ أُمَّتِي مُعَاوِيَة” والی روایت کو موضوع (من گھڑت) قرار دیا۔
2️⃣ علامہ ذہبی – “میزان الاعتدال”
ذہبی نے بھی اس روایت کے راویوں کو ضعیف و غیر قابلِ اعتماد کہا اور واقعے کی کوئی اصل ثابت نہیں کی۔
3️⃣ علامہ البانی – “السلسلة الضعیفة” (حدیث 496)
البانی نے اس روایت کو باطل (False) قرار دیا اور واضح لکھا کہ اس کی کوئی سندِ صحیح موجود نہیں۔
دلچسپ و عجیب تاریخ