05/17/2026
آ/گ نے گھر کی ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا…
دیواریں سیاہ ہو چکی تھیں، سامان جل چکا تھا، کمروں میں دھواں اور راکھ پھیلی ہوئی تھی… ہر طرف تباہی کا منظر تھا۔ مگر جب لوگ اس جلے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوئے تو ایک منظر دیکھ کر سب کی آنکھیں حیرت سے بھر گئیں۔
گھر میں موجود قرآنِ پاک بالکل محفوظ تھا۔
نہ اس کے صفحات جلے… نہ الفاظ مٹے…
گویا آ/گ ہر چیز کو چھو کر گزر گئی… مگر اللہ کے کلام کے سامنے رک گئی۔
یہ منظر دیکھ کر ہر زبان پر بے اختیار یہی آیت آئی:
“بے شک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔”
— سورۃ الحجر 15:9
یہ صرف ایک کتاب نہیں…
یہ اللہ کا وہ کلام ہے جس کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ نے فرمایا ہے۔
تاریخ گواہ ہے…
کئی بار آ/گ لگی، سیلاب آئے، حادثات ہوئے… مگر لوگوں نے بارہا دیکھا کہ قرآنِ پاک حیران کن طور پر محفوظ رہا۔
یہ مناظر ایمان کو تازہ کر دیتے ہیں… اور انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ اللہ کا کلام صرف لفظ نہیں، نور ہے۔
مگر اس واقعے کا اصل پیغام صرف حیرت نہیں…
بلکہ یہ ہے کہ
جس قرآن کی حفاظت اللہ خود کر رہا ہے…
کیا ہم نے اسے اپنی زندگی میں جگہ دی؟
کیا ہم نے کبھی اسے سمجھ کر پڑھا؟
قرآن صرف گھروں میں رکھنے کے لیے نہیں…
بلکہ دلوں میں اتارنے کے لیے نازل ہوا ہے۔
اللہ ہمیں قرآن سے سچی محبت، اس کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے… آمین۔