Kosar Irfan Short

Kosar Irfan Short behind the scenes best page please saport me thanks for follow all the best

06/07/2026
06/06/2026

06/06/2026

Facebook tarnding

06/05/2026

05/03/2026

Facebook vairal reel 1millin views on Facebook

🌼 تقویٰ ہو تو ایسا 🌼                        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا عون بن عبد اللہ رَحْمَةُ اللہِ ...
04/30/2026

🌼 تقویٰ ہو تو ایسا 🌼
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرتِ سیدنا عون بن عبد اللہ رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:

بنی اسرائیل میں دو بھائی تھے۔ ایک دن ایک بھائی نے دوسرے سے پوچھا:

"تمہارے اعمال میں ایسا کون سا عمل ہے جس کے بارے میں تمہیں سب سے زیادہ خوف محسوس ہوتا ہے؟"

اس نے جواب دیا:

"میری زندگی میں کوئی ایسا بڑا عمل نہیں جس سے میں خوف زدہ ہوں، مگر ایک واقعہ مجھے ہمیشہ لرزائے رکھتا ہے۔ ایک مرتبہ میں ایک کھیت کے پاس سے گزرا، وہاں سے میں نے ایک بالی توڑ لی۔ کچھ ہی دیر بعد میرے دل میں خیال آیا کہ میں نے یہ درست نہیں کیا۔ میں نے ارادہ کیا کہ اسے اسی کھیت میں واپس ڈال دوں جہاں سے توڑی تھی، لیکن مجھے یاد نہ رہا کہ وہ کون سا کھیت تھا۔ چنانچہ میں نے وہ بالی کسی ایک کھیت میں ڈال دی… مگر آج تک مجھے یہی خوف رہتا ہے کہ کہیں میں اسے اس کی اصل جگہ پر واپس نہ رکھ سکا ہوں۔"

پھر اس نے اپنے بھائی سے پوچھا:

"اور تمہیں کس بات کا خوف رہتا ہے؟"

اس نے جواب دیا:

"مجھے اس بات کا خوف ہے کہ جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے ایک پاؤں پر دوسرے کے مقابلے میں زیادہ وزن پڑ جائے، اور میری کیفیتِ عبادت میں ذرہ برابر بھی بے اعتدالی آ جائے۔"

ان دونوں کی گفتگو ان کے والد سن رہے تھے۔ یہ سن کر اُن کے دل پر اللہ کا خوف اور اپنے بیٹوں کی سچائی کا اثر ہوا، تو انہوں نے دعا کی:

"اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اگر یہ اپنے کلام میں سچے ہیں تو انہیں فتنے میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے پاس بلا لے۔"

چنانچہ کچھ ہی عرصے بعد ان دونوں بھائیوں کا انتقال ہو گیا۔

حضرتِ سیدنا عون بن عبد اللہ رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:

"ہم نہیں جانتے کہ ان دونوں بھائیوں میں کون زیادہ افضل تھا۔"

اور حضرتِ سیدنا یزید شخصی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:

"میرے خیال میں اُن کا والد زیادہ افضل تھا۔"

📖 (حلیة الأولیاء وطبقات الأصفياء، جلد 4، ص 316)

🌸 حاصلِ کلام:
یہ ایمان افروز واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی تقویٰ صرف بڑے گناہوں سے بچنے کا نام نہیں، بلکہ معمولی سے معمولی حق کے معاملے میں بھی دل کا کانپ اٹھنا تقویٰ ہے۔
اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اپنے اعمال کو کبھی معمولی نہیں سمجھتے، بلکہ چھوٹی سی لغزش پر بھی خوفِ خدا میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہی باریک بینی، یہی اخلاص، اور یہی خوفِ الٰہی انسان کو اللہ تعالیٰ کے قرب تک پہنچاتا ہے۔

🌹 اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا تقویٰ، ایسا خوفِ خدا، اور ایسی پاکیزہ زندگی عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲🌼♥️

ااگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں

*اچھی بات کی طاقت*ایک بادشاہ نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو کوئی اچھی اور دانائی بھری بات کرے گا، اسے چار سو دینار (سونے کے ...
04/29/2026

*اچھی بات کی طاقت*

ایک بادشاہ نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو کوئی اچھی اور دانائی بھری بات کرے گا، اسے چار سو دینار (سونے کے سکے) انعام میں دیے جائیں گے۔

ایک دن بادشاہ اپنی رعایا کا حال جاننے نکلا۔ اس نے دیکھا کہ ایک نوے سالہ بوڑھی عورت زیتون کے پودے لگا رہی ہے۔ بادشاہ نے حیران ہو کر کہا:
"تم چند سالوں میں دنیا سے چلی جاؤ گی، جبکہ یہ درخت بیس سال بعد پھل دیں گے، پھر اتنی محنت کا کیا فائدہ؟"

بوڑھی عورت نے مسکرا کر جواب دیا:
"ہم نے جو پھل کھائے، وہ ہمارے بڑوں نے لگائے تھے… اب ہم لگا رہے ہیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں کھائیں۔"

بادشاہ اس جواب سے بہت متاثر ہوا اور فوراً حکم دیا کہ اسے چار سو دینار دیے جائیں۔

جب بوڑھی عورت کو دینار ملے تو وہ مسکرانے لگی۔
بادشاہ نے پوچھا: "کس بات پر مسکرا رہی ہو؟"
وہ بولی:
"یہ درخت تو بیس سال بعد پھل دیتے، مگر مجھے تو اس کا پھل ابھی مل گیا۔"

یہ سن کر بادشاہ مزید خوش ہوا اور مزید چار سو دینار دینے کا حکم دے دیا۔

جب اسے مزید دینار ملے تو وہ پھر مسکرا دی۔
بادشاہ نے حیرت سے پوچھا: "اب کیوں مسکرائی ہو؟"
بوڑھی عورت نے جواب دیا:
"زیتون کا درخت سال میں ایک بار پھل دیتا ہے، لیکن میرے درخت نے تو دو بار پھل دے دیا!"

بادشاہ اس کی دانائی پر مزید متاثر ہوا اور ایک بار پھر چار سو دینار دینے کا حکم دے دیا۔ پھر وہ فوراً وہاں سے روانہ ہو گیا۔

وزیر نے پوچھا: "حضور، آپ اتنی جلدی کیوں چلے آئے؟"
بادشاہ نے کہا:
"اگر میں مزید رکا رہتا تو میرا خزانہ ختم ہو جاتا، مگر اس عورت کی حکمت بھری باتیں ختم نہ ہوتیں!"

💫 حقیقت یہ ہے کہ اچھی بات دل جیت لیتی ہے، نرم لہجہ دشمن کو بھی دوست بنا دیتا ہے، اور دانائی بھرا جملہ بادشاہوں کو بھی قریب لے آتا ہے۔
اچھی باتیں دنیا میں دوست بڑھاتی ہیں، دشمن کم کرتی ہیں، اور آخرت میں اجر و ثواب کا سبب بنتی ہیں۔
آپ دولت سے بہت کچھ خرید سکتے ہیں، مگر دلوں کو جیتنے کے لیے صرف اچھے الفاظ ہی کافی ہوتے ہیں 💯

ااگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں

Address

New York, NY
07302

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kosar Irfan Short posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kosar Irfan Short:

Share