01/14/2026
1). . مفضل سے روایت ہے کہ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے حسن اور حسین کے ناموں کو حجاب میں رکھا یہاں تک کہ حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم نے اپنے بیٹوں کا نام حسن اور حسین رکھا۔
1. نبهاني، الشرف المؤبد : 424
2. نووي، تهذيب الأسماء، 1 : 162، رقم : 118
3. ابن اثير، اسد الغابه في معرفة الصحابه، 2 : 13
2)عمران بن سليمان سے روایت ہے کہ حسن اور حسین اہل جنت کے ناموں میں سے دو نام ہیں جو کہ دورِ جاہلیت میں پہلے کبھی نہیں رکھے گئے تھے۔‘
1. دولابي، الذرية الطاهره، 1 : 68، رقم : 99
2. ابن حجر مکي، الصواعق المحرقه : 192
3. ابن اثير، اسد الغابه في معرفة الصحابه، 2 : 25
4. مناوي، فيض القدير، 1 : 105
3)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہما روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : میں نے حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم کو دیکھا کہ آپ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم نے حسن و حسین علیہما السلام کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : یہ میرے بیٹے ہیں۔۔
1. ذهبي، سير أعلام النبلاء، 3 : 284
2. ديلمي، الفردوس، 4 : 336، رقم : 6973
3. ابن جوزي، صفوة الصفوه، 1 : 763
4. محب طبري، ذخائر العقبي في مناقب ذوي القربیٰ، 1 : 124
4)سیدہ فاطمہ سلام اللّٰہ علیہا فرماتی ہیں کہ ایک روز حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلّم میرے ہاں تشریف لائے اور فرمایا : میرے بیٹے کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا : علی رضی اللہ عنہ ان کو ساتھ لے گئے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ ان کی تلاش میں متوجہ ہوئے تو انہیں پانی پینے کی جگہ پر کھیلتے ہوئے پایا اور ان کے سامنے کچھ کھجوریں بچی ہوئی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے علی! خیال رکھنا میرے بیٹوں کو گرمی شروع ہونے سے پہلے واپس لے آنا۔‘‘
1. حاکم، المستدرک، 3 : 180، رقم : 4774
2. دولابي، الذرية الطاهره، 1 : 104، رقم : 193
ماخوذ از حسنین کریمین سلام اللہ علیھم کے مناقب از محمد طاہرالقادری