Papa Gorillay

Papa Gorillay GORILLAY NEWS features local NEWS happening around your city.

Events, incidents, interviews, scandals, accidents, BREAKING NEWS, economy, personal opinion - all uncut, uncensored

08/27/2026

08/27/2026

08/27/2026
08/26/2026

*GRAPHIC WARNING*❗

A massive flash flood in the Himalayan border areas of Nepal and China's Tibet washed away villages while damaging roads, bridges and power projects in a region bordering Tibet, authorities said, as they brace for more casualties and worse damage.

08/22/2026

دنیا کا سب سے غریب وزیراعظم

وہ 2014ء میں نیپال کا وزیراعظم بن گیا۔پہلے دن جب اپنے سرکاری دفتر پہنچا تو انتہائی سستے سے کپڑے پہن رکھے تھے۔۔لباس کی مجموعی قیمت دو سو روپے سے بھی کم تھی۔سر پر انتہائی پرانی ٹوپی اورپیروں میں کھردری سی چپل۔ وہاں ویٹر یا نائب قاصد کے کپڑے بھی اس سے بہت بہتر تھے۔

منتخب وزیراعظم کو ان کے دفتر لے جایا گیا۔دفتر کے باہر چپل اُتاری اور ننگے پاؤں چلتا ہوا کرسی پر چوکڑی مارکر بیٹھ گیا۔سیکریٹری اور دیگر عملے کے اوسان خطا ہوگئے کہ یہ کس طرح ملک کے لوگوں سے ووٹ کی طاقت سے وزیراعظم بن گیا ہے۔اس نے فائلیں منگوائیں اور بڑی محنت سے کام شروع کردیا۔سیکریٹری دو گھنٹے اپنے کمرے میں انتظار کرتا رہا کہ باس اب بلائے گا یا اب۔اس نے کئی بار چپڑاسی سے پوچھا کہ مجھے وزیراعظم نے تو نہیں بلایا۔چپڑاسی شرمندگی سے جواب دیتا تھا کہ نہیں۔ابھی تک انھوں نے کسی کو بھی بلانے کے لیے نہیں کہا۔

پورا دن گزرگیا۔وزیراعظم شیشیل سرکاری کام کرکے بڑے آرام سے واپس چلاگیا۔سختی سے منع کیا کہ کوئی بھی اسے خوش آمدید کہنے یاخدا حافظ کہنے نہ آئے۔ یعنی اس نے ہرطرح کے پروٹوکول کو ختم کردیا۔اسی صورتحال میں ایک ہفتہ گزر گیا۔تمام عملہ بیکار بیٹھا رہا۔ وزیراعظم ٹھیک آٹھ بجے صبح دفتر آتا تھا۔رات گئے تک کام کرتا تھا۔ پھر بڑے آرام سے چلاجاتا تھا۔

ایک ہفتہ بعد،سیکریٹری نے کورالا کو چٹ بھجوائی کہ وہ اسے کسی سرکاری کام سے ملنا چاہتا ہے۔چٹ بھجوائے ہوئے دو چار منٹ ہوئے تھے کہ وزیراعظم خود اس کے کمرے میں آگیا اورتہذیب سے پوچھا کہ فرمایے، کیا کام ہے۔

سیکریٹری کی جان نکل گئی کہ ملک کا وزیراعظم اس کے دفترمیں آکر کام پوچھ رہا ہے۔کرسی سے کھڑا ہوگیا۔ لجاجت سے اس نے کورالا کو کہا کہ سر،قانون کے مطابق بطور وزیراعظم آپ نے اثاثے ڈیکلیئر کرنے ہیں۔وزیراعظم نے سیکریٹری سے فارم لیا اور خاموشی سے اپنے دفترچلا گیا۔

شام کوفارم واپس آیا تو سیکریٹری نے پڑھنا شروع کردیا۔اثاثوں کا کاغذ دیکھ کر آنکھیں باہر اُبل پڑی۔درج تھا،”میرے پاس کوئی گھر نہیں ہے۔ کوئی گاڑی بھی نہیں ہے کیونکہ میں بس میں سفر کرتا ہوں۔کسی قسم کی کوئی جائیداد، پلاٹ، زیور، سونا، ہیرے بھی نہیں ہیں۔جہاں تک زرعی زمین کا تعلق ہے،ساری زمین خیرات کرچکاہوں اوراس وقت میرے پاس ایک ایکڑ زمین بھی نہیں ہے۔میرا کسی قسم کا کوئی بینک اکاؤنٹ بھی نہیں ہے۔میرے پاس کوئی رقم ہی نہیں ہے۔میرے پاس صرف تین موبائل فون ہیں جن میں سے ایک آئی فون ہے۔اس کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے”۔

نیپال جیسا ملک جہاں سیاست اورکرپشن،بالکل ہماری طرح لازم وملزوم ہے۔وہاں وزیراعظم کے ڈیکلیئریشن فارم میں کسی قسم کے اثاثے نہ ہونا اچھنبے کی بات تھی ۔سیکریٹری اگلے دن صرف اس لیے وزیراعظم کے پاس گیا کہ کہیں اس سے کوئی غلطی نہ ہوگئی ہو۔مگر وزیراعظم نے تسلی دی اور کہا کہ میں نے ڈیکلیئریشن فارم کے نیچے دستخط کیے ہیں۔ فکرنہ کریں۔

تھوڑے دن کے بعد کسی صحافی نے اخبارمیں چھاپ دیا کہ یہ دنیا کاسب سے غریب وزیراعظم ہے۔اپوزیشن نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ جھوٹ ہے۔کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ایسا شخص جسکے خاندان میں تین وزیراعظم گزرے ہوں، اتنا مفلوک الحال ہو۔اپوزیشن نے ہر طرح کی تحقیق کر ڈالی۔مگرشیشیل کورالا کی لکھی ہوئی باتوں میں کوئی سقم نہ نکال سکے۔واقعی وزیراعظم کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔وہ معاشی کسمپرسی کا شکار تھا۔

ایک سرکاری دورے میں حکومت کی طرف سے اسے چھ سو پنتالیس ڈالر ملے۔ دورے کے بعداس نے یہ تمام ڈالر سرکاری خزانے میں واپس جمع کروا دیے کہ اس کے دورے پرکسی قسم کے کوئی پیسے خرچ نہیں ہوئے۔لہذایہ ڈالر اس کے کسی کام کے نہیں ہیں

بطور وزیراعظم شیشیل کورالا نے انتہائی سادگی سے وقت گزارا اورحکومت کے بعد بھائی کے گھرمنتقل ہوگئے۔آخری عمر میں انھیں پھیپھڑوں کا کینسر ہوگیا۔ان کے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے۔سیاسی پارٹی کے اراکین نے باقاعدہ چندہ اکٹھا کیا اورپھر وہ اپنا علاج کروانے کے قابل ہوئے۔ بہرحال کینسر جیسے موذی مرض سے بہادری سے لڑتے ہوئے 2016ء میں نیپال کے ایک سرکاری اسپتال میں ان کا انتقال ہوگیا۔

آج بھی آپ ان کی زندگی پر لکھی گئی کتابیں پڑھیں توآنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ انسان پوچھت اہے اے خدا، ایسے درویش لوگ بھی اس دنیا پرحکومت کرتے ہیں۔الیکشن جیتتے ہیں اور اپنے دامن پر کرپشن کی ایک چھینٹ بھی نہیں پڑنے دیتے۔ اسی تنگدستی میں دنیاچھوڑدیتے ہیں۔

خیر ایسی مثالیں ہمیں صرف اور صرف کافروں کے ملکوں میں ہی نظر آئیں گی۔ مسلمان فطرتاً ان صفات سے عاری ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جو جتنا لچا وہ اتنا ہی اچا نظر آئے گا۔


Address

Seattle, WA

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Papa Gorillay posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share