05/11/2026
رائیگانی نہیں کہ تم سے کہیں
غم کہانی نہیں کہ تم سے کہیں
دوسری بات یہ کہ پہلی بات
تم نے مانی نہیں کہ تم سے کہیں
آگ اِک ان کہی کی ہے دل میں
اور بجھانی نہیں کہ تم سے کہیں
پھر یہ سوچا کہ ایک شامِ وصال
زندگانی نہیں کہ تم سے کہیں
خامشی ہی متاعِ حیرت ہے
اور گنوانی نہیں کہ تم سے کہیں
عنبرین صلاح الدین