09/19/2026
فقیروالی.
فقیروالی کے نجی ادارے میں تش/د/د کا واقعہ مار نہیں پیار۔ لیکن یہاں ہوا قابل افسوس واقعہ۔ دی وزن سکول کے پرنسپل پر ایک بچے کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بچے کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ تشدد کے بعد جب اہلِ خانہ نے معاملے کی وضاحت اور شکایت کے لیے پرنسپل صاحب سے رابطہ کیا تو، اہلِ خانہ کے مطابق، انہیں تسلی دینے یا معاملہ حل کرنے کے بجائے بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا۔
سوال یہ ہے کہ اگر بچے سے کوئی غلطی ہوئی بھی تھی تو کیا اس کا حل تشدد ہے؟ تعلیمی ادارے بچوں کی تربیت، تعلیم اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ خوف اور تشدد کے لیے۔
والدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچے کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکول بھیجتے ہیں، تشدد برداشت کرنے کے لیے نہیں۔
متعلقہ سکول انتظامیہ اور ذمہ دار حکام سے مطالبہ ہے کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، بچے اور والدین کا مؤقف سنا جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔ اہل خانہ نے قانونی راستہ اپناتے ہوئے سکول کے پرنسپل پر FIR درج کروا دی ہے
⚠️ نوٹ: یہ پوسٹ اہلِ خانہ کی جانب سے بیان کیے گئے مؤقف/الزامات پر مبنی ہے۔ حتمی حقیقت تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکتی ہے۔
Faqirwali