سچا بلوچ

سچا بلوچ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from سچا بلوچ, Digital creator, st 22, Washington D.C., DC.

بہت سے نام نہاد بلوچ مجھے تھریٹ کر رہے ہیں۔ میں ایک بلوچ ہوں بلوچ خاندان نوتکزئی میر چاکر سے تعلق ہے۔ میں ایک سچا پاکستانی ہوں۔ بلوچ قوم کا درد سینے میں رکھتا ہوں مگرانڈین فنڈڈ گروپس سے نفرت ہے ان کوایکسپوزکرتارہوں گا۔ پاکستان زندہ باد۔ بلوچ قوم زندہ باد۔

بی ایل اے نے آج ایک پروپیگینڈا وڈیو ریلیز کی جس میں اس نے کچھ بلوچ خواتین کو اسٹائل میں جنگجو ٹرینگ کرتے دیکھایا گیا۔ وڈ...
05/31/2026

بی ایل اے نے آج ایک پروپیگینڈا وڈیو ریلیز کی جس میں اس نے کچھ بلوچ خواتین کو اسٹائل میں جنگجو ٹرینگ کرتے دیکھایا گیا۔ وڈیو میں بتایا تو یہ گیا کہ یہ بیچاری غم کی ماری غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے۔
25 لاکھ سے زیادہ اسلحہ ایک ایک نے پہنا ہوا ہے اور کروڑوں روپے کی مہنگی ویگو اور ٹویوٹا صرف گاڑیوں میں گھومتی، جدید ترین ہتھیاروں سے لیس، میک اپ کیے گرد سے پاک وردیوں میں یہ خواتین پہاڑوں میں بیٹھے سر مچاروں کی سویٹ ڈش ہیں۔
وڈیو میں جو عورت ان کی سرخیل دیکھائی جا رہی ہے اس کا نام شہناز بلوچ ہے۔
▪️شہناز کا تعلق تمپ، ضلع کیچ بلوچستان سے ہے۔
▪️اس کے والد زابد بلوچ ہے جو وفات پا چکا۔ اس کی ماں رخسانہ نے تمپ ہی کے رہائشی قریش نامی شخص سے دوسری شادی کی ہوئی ہے۔
▪️اس کا کوئی بھائی نہیں اور ایک غیر شادی شدہ بہن صبا ہے۔
▪️اس کی شادی وارث نامی شخص سے ہوئی جس سے اس کے دو بچے پانچ سالہ بیٹا احسان اور تین سالہ بیٹی صبا ہے۔ اس کا شوہر مسقط عمان میں ہے اور یہ وہاں خوشحال زندگی گزار رہی تھی۔
▪️عمان میں اس کی بدکاری پر اس کے شوہر نے اسے 2025 میں طلاق دی اوریہ واپس تمپ آ گئی۔ لیکن کچھ ہی عرصہ بعد گھر سے جھوٹ بول کر ایران گئی اور فتنہ الہندستان کے سرمچاروں کی سویٹ ڈش بن گئی۔
یہ عورت غربت کے ہاتھوں نہیں بلکہ اپنی بدکاری، نشے اور بد اخلاقی کی وجہ سے دہشت گرد گروہ کی ممبر بنی جیسے اسی کی بدکار کزن ہوا بلوچ جو ہیروف ٹو کے دوران پسنی میں جہنم واصل ہوئی

اصلی تے نسلی بلوچ
11/04/2025

اصلی تے نسلی بلوچ

09/02/2025

زہری پر کنٹرول: حقیقت یا پروپیگنڈہ؟

گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک نیا بیانیہ گردش کر رہا ہے کہ دہشتگرد تنظیم بی ایل اے نے زہری کے علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ بظاہر یہ ایک سنسنی خیز دعویٰ ہے لیکن جب ہم اس دعوے کو شواہد کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں تو یہ محض ایک گھٹیا پروپیگنڈہ مہم کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر ایک ویران علاقے کی تصاویر شیئر کی گئیں۔ وہاں زمین پر ایف سی کی وردیاں پڑی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔ غور کیا جائے تو وہاں نہ کوئی دہشتگرد موجود تھا، نہ کوئی سکیورٹی اہلکار اور نہ ہی کسی جانی نقصان کے آثار۔ یعنی یہ محض تصویروں کا ایک کھیل تھا۔

اس کے بعد یہ پروپیگنڈہ ایک ٹرک کی تصویر تک جا پہنچا جس پر ایف سی کی وردیاں لٹکی ہوئی دکھائی گئیں۔ مگر وہاں بھی حقیقت وہی رہی، نہ کوئی اہلکار، نہ کوئی دہشتگرد اور نہ ہی کسی قسم کی جھڑپ کے شواہد۔

اسی تسلسل میں ایک جلتے ہوئے ٹرک کی ویڈیو شیئر کی گئی۔ لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ وہاں بھی زمینی حقیقت بالکل غائب تھی، نہ کوئی ہلاک یا زخمی شخص، نہ دہشتگرد اور نہ ہی سکیورٹی اہلکار۔ بعد ازاں تین جلتی ہوئی پک اپ گاڑیوں کی ایک اور ویڈیو سامنے آئی۔ مگر وہی معاملہ، گرافکس انتہائی خراب، فوٹیج بلر، اور حقیقت کے کوئی آثار موجود نہیں۔

پھر ایک اور تصویر وائرل کی گئی جس میں ایف سی کی گاڑی پر بی ایل اے کی چاکنگ دکھائی گئی۔ لیکن جب اس تصویر کا فیکٹ چیک کیا گیا تو یہ بالکل جعلی اور ایڈٹ شدہ نکلی۔ آج کل آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ایڈیٹنگ ٹولز کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز میں جعلی مناظر تیار کرنا آسان ہے۔ اور اس پروپیگنڈے میں یہی حربہ استعمال ہوا ہے۔

ذرا سوچیں، جب بھی دہشتگرد واقعی کسی ویران علاقے میں سڑک پر آتے ہیں تو وہ کھلے عام فائرنگ کی ویڈیوز بناتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، اور سوشل میڈیا پر واضح فوٹیج شیئر کرتے ہیں تاکہ اپنی موجودگی کو دکھا سکیں۔ لیکن زہری والے پروپیگنڈے میں ایسا کچھ بھی سامنے نہیں آیا۔ صرف دھندلی، بے ربط اور ایڈٹ شدہ تصویریں۔

زہری کے مقامی لوگوں سے پوچھیں تو انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ آخر دہشتگردوں نے ان کے علاقے میں کہاں اور کیسے کنٹرول سنبھالا ہے۔ اگر واقعی دہشتگرد کسی دفتر یا بازار پر قبضہ کرتے تو یہ بات چند لمحوں میں سب کو معلوم ہوجاتی۔ ماضی میں جب انہوں نے زہری میں ایک حملہ کیا تھا تو اس کی باقاعدہ فوٹیج، شواہد اور حکومتی اعتراف موجود تھا۔ مگر اس مرتبہ معاملہ سراسر پروپیگنڈہ ہے۔

یہ پروپیگنڈہ محض اتفاقیہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک واضح مقصد چھپا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سکیورٹی فورسز اور ایجنسیوں نے حالیہ مہینوں میں بی ایل اے کے بڑے نیٹ ورک کو توڑ دیا ہے۔ ان کے بڑے بڑے کمانڈر ہلاک ہوچکے ہیں، کئی سہولتکار گرفتار ہیں، اور ان کے شوٹرز بھی پکڑے جا رہے ہیں۔

اب بی ایل اے نہ صرف مسلح کارروائیوں میں کمزور ہوچکی ہے بلکہ ان کے حق میں نرم آواز بلند کرنے والے لوگ بھی جیلوں میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مورال تیزی سے گر رہا ہے۔ عوامی سطح پر بھی ان کی ساکھ کمزور پڑچکی ہے اور جو عام سہولتکار پہلے ان کے ساتھ کھڑے تھے، اب پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

ایسی صورتحال میں یہ تنظیم جعلی تصویریں اور ویڈیوز پھیلا کر یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ اب بھی طاقتور ہیں، تاکہ اپنے فالورز کو حوصلہ دے سکیں اور باقی ماندہ سہولتکاروں کو ساتھ رکھنے میں کامیاب ہوں۔ بشیر زیب کے حالیہ بیانات بھی اسی کمزوری کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ "ہیروف 2" جیسے حملوں کی بات کرکے اپنے لوگوں کو ایک جھوٹی امید دلانے کی کوشش کررہا ہے۔

بی ایل اے اس وقت اتنی فرسٹریشن کا شکار ہے، یہ ممکن ہے کہ اپنے ہی 15 سے 20 دہشتگردوں کو قربانی کا بکرا بنا دے، تاکہ یہ ثابت کر سکے کہ وہ اب بھی طاقت رکھتے ہیں۔ مگر زمینی حقیقت یہی ہے کہ ان کے گرد گھیرا تنگ ہوچکا ہے۔ ان کے سہولتکار، ہائی پروفائل کمانڈرز اور شوٹرز ایک ایک کرکے پکڑے جا رہے ہیں یا مارے جا رہے ہیں۔

میں بلوچستان کے عام نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں، میری باتوں سے آپ اختلاف کرسکتے ہیں، لیکن خود سے ایک سوال ضرور کریں:
کیا زہری کا کنٹرول واقعی ایک حقیقت ہے یا محض پروپیگنڈہ؟ کیا کسی سرکاری دفتر، تھانے یا ادارے کی کوئی تصویر سامنے آئی ہے جہاں دہشتگرد قابض ہوں؟

جواب صاف ہے، یہ سب جھوٹ اور پروپیگنڈہ ہے۔ لہٰذا ہوشیار رہیں، افواہوں پر یقین نہ کریں، اور دہشتگردوں کی اس مکارانہ مہم کا شکار نہ بنیں۔

ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کریں اور عوام کو حقیقت بتائیں۔ ان شاءاللہ، جس طرح وہ مہم چلائیں گے، ہم بھی ان کا بھرپور جواب دیں گے۔

بیشک میری باتیں آپ کو سخت لگیں، لیکن اپنے دل سے سوال کیجیئے اور حقیقت کو پرکھئے۔سلامت رہیں، آباد رہیں، اور ہمیشہ خوش رہیے

08/30/2025

یہ سیلاب بھی مجھے یہودی ایجنٹ لگتا ہے انگریز کے بنائے 100 سال پرانے پل نہیں توڑتا اور ہمارے حاجی ٹھیکیدار کے بنے پل بہا لے جاتا ہے

08/23/2025
بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کا گھناونا منصوبہ بروقت انٹیلیجنس ایجنسیوں کی کاروائی سے بے نقاب  بلوچستان کا ایک نام نہاد لیکچرا...
08/17/2025

بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کا گھناونا منصوبہ بروقت انٹیلیجنس ایجنسیوں کی کاروائی سے بے نقاب

بلوچستان کا ایک نام نہاد لیکچرار ڈاکٹر عثمان قاضی (BUITEMS) خفیہ طور پر BLA کے ساتھ مل کر پاکستان کے یومِ آزادی پر سب سے خونی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

11 اگست کو کوئٹہ میں ایک خودکش بمبار کو انٹیلیجنس ایجنسیوں نے گرفتار کیا۔ اس کی نشاندہی پر ڈاکٹر عثمان قاضی کو بھی گرفتار کیا گیا جو BLA کی "مجید بریگیڈ" کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ تفتیش کے دوران عثمان قاضی نے اعتراف کیا کہ وہ 9 نومبر 2024 کے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن دھماکے میں سہولت کار تھا اور 14 اگست کے بم دھماکوں کے لیے درجنوں خودکش بمبار تیار کر رہا تھا۔ بروقت کاروائی سے یہ خوفناک منصوبہ ناکام بنا دیا گیا اور پاکستان ایک بڑے سانحے سے بچ گیا۔

عثمان قاضی نے خودکش بمبار رفیق بیزنجو کو سہولت فراہم کی تھی، جس نے نومبر 2024 میں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا۔ اس سے پہلے اپریل/مئی 2024 میں اس نے ایک زخمی BLA دہشت گرد @بوہیر کو اپنے گھر میں چھپائے رکھا اور نامعلوم ڈاکٹر کے ذریعے اس کا علاج بھی کروایا۔

12 اگست تک انٹیلیجنس ایجنسیوں نے پورا منصوبہ بے نقاب کر لیا۔ BLA کے منصوبے کے مطابق 32 خودکش بمبار اور 4 VBIEDs یومِ آزادی کے موقع پر کوئٹہ اور دیگر شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار تھے، تاکہ قومی خوشی کو سوگ میں بدلا جا سکے۔

ایک استاد کے بھیس میں چھپا یہ شخص دراصل نوجوانوں کو تعلیم دینے کے بجائے خودکش جیکٹس تھما رہا تھا۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے بروقت کاروائی کر کے اس سازش کو ناکام بنایا اور ہزاروں قیمتی جانیں بچا لیں۔

اب بلوچستان کے عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ریاست اور اپنے روشن مستقبل کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا ایسے غداروں کے ساتھ جو استاد اور پروفیسر کا روپ دھار کر موت بانٹتے ہیں۔

BLA اور ان کے سہولت کار جن میں کچھ "استاد، ڈاکٹر، اور انسانی حقوق کے کارکن" مثلاً مہرنگ، ایمان مزاری، ماما قدیر، ڈاکٹر عثمان، نعمان @ پیرک وغیرہ شامل ہیں، مکمل ربط اور ہم آہنگی کے ساتھ دہشت گردی کا جال بُنتے ہیں۔ اور جب انٹیلیجنس ادارے اور سیکیورٹی فورسز دہشتگردی سے پہلے ان کو گرفتار کرتے ہیں تو یہ اندرونی اور بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر "انسانی حقوق" اور "لاپتہ افراد" کا ڈھونگ رچاتے ہیں تاکہ عوام کو گمراہ کر سکیں۔

بس اب بہت ہو گیا، ریاست اب ان ڈراموں اور لاپتہ افراد کے بہانوں سے مزید بلیک میل نہیں ہوگی۔

07/28/2025

ایران افغان بارڈر بندش کے بعد لواطت شدہ سرمچاروں کے بچنے کا واحد راستہ بی وائی سی کے دھرنےہیں جن کا وہ استعمال کر رہے ہیں۔ بلوچ عوام ان کے خلاف ہو چکی ہے اسلام آباد دھرنے سے یہ واضح ہو چکا ہے

گوادر میں ایک بہادر بلوچ پولیس اہلکار محمد خوماری بلوچ نے اپنی جان پر کھیل کر پنجابی مزدوروں کی جان بچا لی ۔دہشتگردوں نے...
07/27/2025

گوادر میں ایک بہادر بلوچ پولیس اہلکار محمد خوماری بلوچ نے اپنی جان پر کھیل کر پنجابی مزدوروں کی جان بچا لی ۔دہشتگردوں نے مزدوروں کے رہائشی کوارٹر پر دستی بم سے حملہ کیا، مگر خوماری بلوچ نے جان کی پروا کیے بغیر حملہ ناکام بنایا۔
دہشتگرد موقع پر ہی انجام کو پہنچا، جبکہ محمد خوماری بلوچ نے جامِ شہادت نوش کیا۔
کسی مزدور کی جان کا نقصان نہیں ہوا، 3 افراد معمولی زخمی ہوئے۔

یہ ہے اصل بلوچ جنکے خون میں وفا، قربانی اور غیرت ہیں۔جو اپنے مہمان کی جان بچانے کے لہے اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں۔ سلام ایسے نوجوانوں

07/27/2025

جب بھی ن لیگ کی حکومت ہوتی ہے لوگوں کو گدھے کیوں کھلائے جاتے ہیں؟

Address

St 22
Washington D.C., DC

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سچا بلوچ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share