05/31/2026
بی ایل اے نے آج ایک پروپیگینڈا وڈیو ریلیز کی جس میں اس نے کچھ بلوچ خواتین کو اسٹائل میں جنگجو ٹرینگ کرتے دیکھایا گیا۔ وڈیو میں بتایا تو یہ گیا کہ یہ بیچاری غم کی ماری غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے۔
25 لاکھ سے زیادہ اسلحہ ایک ایک نے پہنا ہوا ہے اور کروڑوں روپے کی مہنگی ویگو اور ٹویوٹا صرف گاڑیوں میں گھومتی، جدید ترین ہتھیاروں سے لیس، میک اپ کیے گرد سے پاک وردیوں میں یہ خواتین پہاڑوں میں بیٹھے سر مچاروں کی سویٹ ڈش ہیں۔
وڈیو میں جو عورت ان کی سرخیل دیکھائی جا رہی ہے اس کا نام شہناز بلوچ ہے۔
▪️شہناز کا تعلق تمپ، ضلع کیچ بلوچستان سے ہے۔
▪️اس کے والد زابد بلوچ ہے جو وفات پا چکا۔ اس کی ماں رخسانہ نے تمپ ہی کے رہائشی قریش نامی شخص سے دوسری شادی کی ہوئی ہے۔
▪️اس کا کوئی بھائی نہیں اور ایک غیر شادی شدہ بہن صبا ہے۔
▪️اس کی شادی وارث نامی شخص سے ہوئی جس سے اس کے دو بچے پانچ سالہ بیٹا احسان اور تین سالہ بیٹی صبا ہے۔ اس کا شوہر مسقط عمان میں ہے اور یہ وہاں خوشحال زندگی گزار رہی تھی۔
▪️عمان میں اس کی بدکاری پر اس کے شوہر نے اسے 2025 میں طلاق دی اوریہ واپس تمپ آ گئی۔ لیکن کچھ ہی عرصہ بعد گھر سے جھوٹ بول کر ایران گئی اور فتنہ الہندستان کے سرمچاروں کی سویٹ ڈش بن گئی۔
یہ عورت غربت کے ہاتھوں نہیں بلکہ اپنی بدکاری، نشے اور بد اخلاقی کی وجہ سے دہشت گرد گروہ کی ممبر بنی جیسے اسی کی بدکار کزن ہوا بلوچ جو ہیروف ٹو کے دوران پسنی میں جہنم واصل ہوئی