04/01/2026
اوقات کار کے نئے نوٹیفکیشن پر نظر ثانی کی درخواست ہے*
تعلیمی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر آج جو ٹائم ٹیبل شیر ہوا ہے اس پر غور کیا جائے تو واقعی یہ ایک عجیب سا مذاق محسوس ہوتا ہے۔ سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے %75 پیدل چل کر آتے ہیں جو کہ صبح گھر سے 1 گھنٹہ قبل نکلتے ہیں، مطلب 6:30 پر نکلیں گے اور 6 بجے ناشتہ کے نام پر دو چار نوالے کھا کر آتے ہیں۔ ایسے بچوں کی جسمانی اور ذہنی حالت کو سمجھے بغیر ان پر طویل اوقات کار مسلط کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔
پھر سکول میں حکم حاکم ہے کہ کوئی بھی ٹک شاپ نہیں ہو گی، سکول کے قریب کوئی ریڑھی چھابڑی فروش نہیں ہو گا۔ جن بچوں کے پھٹے یونیفارم سے ان کے باپ کی غربت جھلک کر باہر آنے کو بےقرار ہوتی ہے، اس گھر میں وقت کی روٹی مشکل سے پکتی ہو، وہ اپنے 4 یا 5 بچوں کو الگ الگ لنچ کہاں سے دے سکتے ہیں۔ تعلیمی نفسیات یہ کہتی ہے کہ جب تک بچے کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں، وہ سیکھنے کے عمل میں بھرپور حصہ نہیں لے سکتا۔
لڑکوں کے زیادہ تر سکولوں میں بچوں کے باہر جھگڑوں کی وجہ سے بریک نہیں دی جاتی، وہ 20 منٹ ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں۔ لڑکیوں کے سکول میں چونکہ ٹک شاپ بھی نہیں ہوتی اور باہر بھی جانے نہیں دے سکتے ہیں، تو ان حالات میں وہ بچے جو صبح 6 بجے ناشتہ کر کے آئے ہیں، ان کو 50 منٹ کی بریک دینے کی سائنس سمجھ نہیں آ رہی ہے۔ یہ وقفہ نہ تو ان کی بھوک مٹاتا ہے اور نہ ہی ان کی توانائی بحال کرتا ہے، بلکہ ان کے لیے مزید ذہنی دباؤ اور تھکن کا باعث بنتا ہے۔
اگر یہی 50 منٹ نکال دئیے جائیں، صبح اسمبلی ختم کر دی جائے تو 1:50 پر چھٹی کا وقت ممکن ہو سکتا ہے۔ لہٰذا محکمہ تعلیم سے گزارش ہے کہ اوقات کار کے نام پر اس مذاق پر نظر ثانی کی جائے۔ 9 گھنٹے بچے کو بھوکے پیٹ رکھ کر پڑھانے سے ان کو خاک سمجھ آئے گی۔
تعلیمی نفسیات کے مطابق بھوکا، تھکا ہوا اور ذہنی دباؤ کا شکار بچہ نہ تو توجہ مرکوز کر سکتا ہے اور نہ ہی مؤثر انداز میں سیکھ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں سکول درس و تدریس کی جگہ کی بجائے مویشیوں کا باڑہ ثابت ہو گا جہاں بچوں کو زبردستی کلے کے ساتھ بندھا ہوا ہو۔
لہٰذا یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ پالیسی ساز ادارے زمینی حقائق، بچوں کی نفسیاتی ضروریات اور معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ٹائم ٹیبل پر نظرِ ثانی کریں، کیونکہ ایک صحت مند، مطمئن اور توانائی سے بھرپور بچہ ہی بہتر طور پر سیکھ سکتا ہے