11/01/2025
سوڈان تنازعہ کا غیر جانبدارانہ جائزہ
سوڈان کا جاری بحران، جسے اکثر سوڈانی خانہ جنگی کہا جاتا ہے، 15 اپریل 2023 کو شروع ہوا اور اب دنیا کی سب سے شدید انسانی المیوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ یہ تنازعہ دو اہم فوجی گروہوں—سوڈانی مسلح افواج (SAF) جو جنرل عبد الفتاح البرہان کی قیادت میں ہیں، اور فاسٹ سپورٹ فورسز (RSF) جو جنرل محمد حمدان دگلو (عام طور پر ہمدتی کے نام سے مشہور) کی کمان میں ہیں—کے درمیان اقتدار کی کشمکش پر مبنی ہے۔ دونوں فریق 2019 کی عوامی بغاوت کے دوران طویل المدتی آمر عمر البشیر کو ہٹانے میں اہم کردار ادا کر چکے تھے اور عبوری حکومت قائم کی تھی۔ تاہم، RSF کو SAF میں ضم کرنے اور شہری حکومت کی بحالی کے شیڈول پر تناؤ نے کھلی لڑائی کا باعث بنایا۔
پس منظر اور اسباب
سوڈان کی عدم استحکام کی جڑیں کئی دہائیوں پرانی ہیں، جن میں دو پرانی خانہ جنگیاں (1955–1972 اور 1983–2005) شامل ہیں، جن کے نتیجے میں 2011 میں جنوبی سوڈان کی آزادی ہوئی۔ موجودہ جنگ بنیادی طور پر نسلی یا مذہبی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی کنٹرول کی جدوجہد ہے، جو درج ذیل عوامل سے شدت اختیار کر رہی ہے:
وسائل کی مقابلہ بازی: دونوں فریق سونے کی کانوں، تیل کے ذخائر اور اسمگلنگ کے راستوں پر کنٹرول چاہتے ہیں جو ان کی فنڈنگ کا ذریعہ ہیں۔ سوڈان سالانہ تقریباً 65 ٹن سونا پیدا کرتا ہے (غیر قانونی تجارت کی وجہ سے تخمینہ مزید زیادہ ہے)، جو زیادہ تر متحدہ عرب امارات اور مصر جیسے مراکز میں اسمگل کیا جاتا ہے۔
اداروں کی کمزوری: 2021 کے SAF اور RSF کی طرف سے کیا گیا فوجی بغاوت نے جمہوری منتقلی کو روک دیا اور اقتدار کی خلا پیدا کر دیا۔
خارجی مداخلت: غیر ملکی طاقتیں لڑائی کو طول دے رہی ہیں۔ SAF کو مصر، ایران (ڈرونز)، اور ترکی سے مدد مل رہی ہے، جبکہ RSF کو متحدہ عرب امارات (حملوں کی افواہوں) اور لیبیا کی فورسز (خلیفہ حفتر کی قیادت میں) سے تعاون حاصل ہے۔ روس نے پہلے RSF کی حمایت واگنر گروپ (اب افریقہ کور) کے ذریعے کی تھی، اگرچہ اب یہ کم ہو گئی ہے۔
تنازعہ میں کم از کم 14 مسلح گروہ شامل ہو چکے ہیں، جن میں دارفور مبنی باغی جیسے سوڈان لبریشن موومنٹ (SLM) کے دھڑے (کچھ SAF کے ساتھ، دوسرے غیر جانبدار یا RSF کے ساتھ) اور جسٹس اینڈ ایکولٹی موومنٹ (JEM، SAF کی حمایت) شامل ہیں۔ اس تقسیم نے دارفور جیسے علاقوں کو کثیر الجہتی محاذوں میں تبدیل کر دیا ہے۔
اہم پیش رفت
2023–2024: لڑائی خرطوم میں شروع ہوئی جہاں RSF نے دارالحکومت کا بڑا حصہ قبضہ کر لیا۔ لڑائیاں دارفور تک پھیل گئیں، جہاں RSF کی جڑیں جنجدویڈ ملیشیا (2000 کی دہائی میں نسل کشی کے الزام میں) سے ہیں، جس نے غیر عرب گروہوں جیسے مسالیٹ کے خلاف نسلی ہدف بنایا۔ SAF نے مارچ 2025 تک خرطوم دوبارہ حاصل کر لیا لیکن مغربی سوڈان میں زمین گنوائی۔
2025 کی ٹائم لائن:
جنوری: امریکہ نے دارفور میں RSF کی نسل کشی کا تعین کیا۔
فروری: SAF نے عبید کی RSF کی محاصرہ ختم کیا؛ RSF اتحادیوں نے نائیروبی میں متوازی حکومت کا منصوبہ بنایا۔
مارچ: SAF کے فضائی حملوں نے شمالی دارفور کے ٹورا بازار میں 350 شہریوں کو ہلاک کیا؛ RSF نے قانونی حیثیت کے لیے آئین پر دستخط کیے۔
جون: RSF نے لیبیا اور مصر کی سرحدوں کے علاقوں پر قبضہ کیا۔
ستمبر: بارشوں کے موسم میں بیماریوں (کولرا، ڈینگی) کا پھیلاؤ؛ RSF حملوں نے مغربی دارفور میں 370 کو ہلاک کیا۔
اکتوبر: RSF نے 18 ماہ کی محاصرے کے بعد الفاشر پر قبضہ کر لیا، جس میں کم از کم 1,500 شہری ہلاک ہوئے اور بڑے قتل عام ہوئے؛ عرب ممالک نے مظالم کی مذمت کی۔ RSF نے شمالی کورڈوفان کے شہر بارا پر بھی قبضہ کیا، جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئیں اور 4,500 سے زائد لوگ بے گھر ہوئے۔ دونوں فریقوں کے ڈرون حملے بلو نائل، جنوبی کورڈوفان، مغربی دارفور اور خرطوم میں نئے اہداف پر ہوئے۔
نومبر (1 نومبر تک): SAF نے RSF کی پوزیشنوں پر راکٹ حملے کیے، جبکہ پोर्ट سوڈان پر ڈرون حملے جاری ہیں۔ اقوام متحدہ نے الفاشر کی تباہی پر عالمی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا اور تنازعہ کی وسیع تر جغرافیائی حدوں کی نشاندہی کی۔
دونوں فریقوں نے دستاویزی خلاف ورزیاں کی ہیں، جن میں خلاصہ انصاف، جنسی تشدد کو جنگ کا ہتھیار بنانا، اور شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملے شامل ہیں۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) نے جولائی 2025 میں دارفور میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی رپورٹ دی، جس میں سال کے پہلے نصف میں 990 سے زائد غیر قانونی ہلاکتیں درج ہیں۔
انسانی اثرات
جنگ نے دنیا کا سب سے بڑا نقل مکانی بحران پیدا کیا ہے، جس میں 12 ملین سے زائد لوگ بے گھر ہوئے (8.8 ملین اندرونی طور پر منتقل، 3.5 ملین پناہ گزین فروری 2025 تک)۔ پڑوسی چاڈ میں سوڈانی مہاجرین کی تعداد 2025 میں 45% بڑھ کر 1.2 ملین ہو گئی۔
ہلاکتیں: تخمینے 17,000 (ابتدائی 2024) سے 150,000 (امریکی ایلچی کا 2024 کا جائزہ، اب ممکنہ طور پر مزید زیادہ) تک ہیں۔ مارچ 2025 تک 50,000 لاپتہ افراد رپورٹ ہوئے؛ پہلے نصف 2025 میں 7 صحافی ہلاک ہوئے.
قحط اور صحت: شمالی دارفور میں قحط کی تصدیق (اگست 2024)؛ 25 ملین شدید بھوک کا شکار۔ 2025 میں کولرا اور ڈینگی کے پھیلاؤ نے صحت نظام کو تباہ کر دیا، جہاں بچوں کے خلاف جنسی زیادتی اور بچوں کی فوجی بھرتی عام ہے۔
نسلی تشدد: دارفور میں RSF کے مسالیٹ کمیونٹیز پر حملے کو امریکہ نے جنوری 2025 میں نسل کشی قرار دیا، جبکہ SAF کے فضائی حملوں نے بھی سینکڑوں شہریوں کو ہلاک کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے اپریل 2025 میں اسے "حیران کن پیمانے اور بے رحمی کی تباہی" قرار دیا اور ہتھیاروں کی پابندی اور شہریوں کی حفاظت کا مطالبہ کیا۔
امن کی کوششیں اور مستقبل کا منظرنامہ
"کواڈ" (امریکہ، UAE، مصر، سعودی عرب) کی ثالثی نے اکتوبر 2025 میں بہت کم نتیجہ دیا اور صرف ایک علامتی کمیٹی قائم کی۔ RSF کی متوازی حکومت کی کوشش SAF کی ICJ میں UAE کے خلاف نسل کشی میں ملوث ہونے کی شکایت کے برعکس ہے۔ لندن کانفرنس (ابتدائی 2025) نے امداد کے وعدے حاصل کیے لیکن مبینہ ہتھیار فراہم کنندگان کی شمولیت پر تنقید کا سامنا کیا۔
سیز فائر کے بغیر، ماہرین علاقائی پھیلاؤ، پراکسی شدت، اور مزید مظالم کی وارننگ دیتے ہیں۔ تنازعہ کا خاتمہ بیرونی ہتھیاروں کی روک تھام، جرائم کی ذمہ داری، اور جامع شہری قیادت والی بات چیت سے ممکن ہے—اگرچہ دونوں فریق فوجی فتوحات کو مذاکرات پر ترجیح دے رہے ہیں۔