Urdu America

Urdu America اردو امریکہ ،آپ کی آواز | آپ کی خبریں | آپ کا چینل
Urdu America is News & digital broadcast company based in US follow us.
(1)

گلگت بلتستان انتخابات پر بھارت کا احتجاج، پاکستان کے منصوبے پر اعتراضبھارت نے گلگت بلتستان اسمبلی کے لیے 7 جون 2026 کو ہ...
06/06/2026

گلگت بلتستان انتخابات پر بھارت کا احتجاج، پاکستان کے منصوبے پر اعتراض

بھارت نے گلگت بلتستان اسمبلی کے لیے 7 جون 2026 کو ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد پر پاکستان سے باضابطہ احتجاج کیا ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعے کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ نئی دہلی نے گلگت بلتستان میں انتخابات کے پاکستانی منصوبے پر اپنے تحفظات سے اسلام آباد کو آگاہ کر دیا ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے دیرینہ مؤقف کو دہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گلگت بلتستان، جموں و کشمیر اور لداخ کے ساتھ بھارت کا حصہ ہے اور اس خطے میں انتخابات یا کسی بھی قسم کی انتظامی اور سیاسی تبدیلی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت ان تمام اقدامات کو مسترد کرتا ہے جن کے ذریعے پاکستان اپنے زیرِ انتظام علاقوں کی آئینی، سیاسی یا انتظامی حیثیت میں تبدیلی لانے کی کوشش کرے۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کے زیرِ انتظام خطہ ہے، جہاں 7 جون کو قانون ساز اسمبلی کے انتخابات منعقد کیے جا رہے ہیں۔ کشمیر اور گلگت بلتستان کی حیثیت پر پاکستان اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے اختلافات موجود ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ ماضی میں گلگت بلتستان کے انتخابات پر بھارت کے اعتراضات کے جواب میں واضح کر چکی ہے کہ جموں و کشمیر ایک حل طلب بین الاقوامی تنازع ہے اور اس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے سے ہونا چاہیے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت خود جموں و کشمیر کے ایک حصے پر قابض ہے، اس لیے گلگت بلتستان میں انتخابی عمل پر اعتراض نہیں کر سکتا۔

امریکہ کی 250 ویں سالگرہ، شہباز شریف کی امریکی سفارت خانے کی تقریب میں شرکتاسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے زیرِ اہتم...
06/05/2026

امریکہ کی 250 ویں سالگرہ، شہباز شریف کی امریکی سفارت خانے کی تقریب میں شرکت

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے زیرِ اہتمام امریکہ کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

وزیرِ اعظم نے امریکی قیادت اور عوام کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی، تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، توانائی اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور امن و خوشحالی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

گلگت بلتستان انتخابات، پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی بیان بازی میں شدتاسلام آباد: گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات ک...
06/05/2026

گلگت بلتستان انتخابات، پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی بیان بازی میں شدت

اسلام آباد: گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مرتبہ پھر سفارتی بیان بازی میں شدت آ گئی ہے۔ بھارت نے 7 جون کو ہونے والے انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے، جبکہ پاکستان نے بھارتی اعتراضات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر، لداخ اور گلگت بلتستان بھارت کے اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے ہیں اور گلگت بلتستان میں انتخابات کے انعقاد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے ردعمل میں کہا کہ بھارتی دعوے بے بنیاد، مضحکہ خیز اور حقائق کو افسانے میں تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہیں۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت جعلی بیانیوں اور جانب دارانہ پروپیگنڈے کے ذریعے زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ ترجمان کے مطابق، کسی دعوے کو بار بار دہرانے سے وہ حقیقت نہیں بن جاتا۔

پاکستان نے اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اور اس مسئلے کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ گلگت بلتستان کے انتخابی عمل پر اعتراضات اٹھا کر اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

گلگت بلتستان میں اسمبلی انتخابات 7 جون کو ہونے ہیں، جہاں مختلف سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں ووٹرز سے رابطے کر رہی ہیں۔ خطے کے عوام روزگار، ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات اور آئینی حیثیت جیسے اہم مسائل کو انتخابی عمل کا مرکزی موضوع قرار دے رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کی جغرافیائی اہمیت بھی غیر معمولی ہے، کیونکہ یہ خطہ پاکستان کو چین سے ملاتا ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اہم منصوبوں کا حصہ ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان گلگت بلتستان کے معاملے پر اختلاف کوئی نیا تنازع نہیں، تاہم انتخابات سے چند روز قبل سامنے آنے والے حالیہ بیانات نے ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کے دیرینہ اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

روسی صدر ولادمیر پوتن نے پاکستان کو چین کے مکمل کنٹرول میں قرار دینے کا تاثر مسترد کر دیاروسی صدر ولادیمیر پوتن نے پاکست...
06/05/2026

روسی صدر ولادمیر پوتن نے پاکستان کو چین کے مکمل کنٹرول میں قرار دینے کا تاثر مسترد کر دیا

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے پاکستان کو چین کے مکمل کنٹرول میں قرار دینے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک بڑا اور خودمختار ملک ہے، جس کے مختلف ممالک کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات قائم ہیں۔

ایک بھارتی صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر پوتن نے کہا:’’آپ نے کہا کہ پاکستان مکمل طور پر چین کے کنٹرول میں ہے، لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا۔ پاکستان ایک بڑا ملک ہے اور اس کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں۔‘‘

روسی صدر نے کہا کہ چین کے ساتھ تعاون پاکستان کے لیے یقیناً انتہائی اہم ہے، تاہم اس بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ اسلام آباد اپنی خارجہ پالیسی کے فیصلوں میں آزاد نہیں۔

صدر پوتن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی ایشیا میں پاکستان، چین، بھارت اور روس کے تعلقات کو بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے تناظر میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کے ریمارکس کو پاکستان کے بارے میں ایک متوازن مؤقف اور اسلام آباد کی آزاد خارجہ پالیسی کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

06/03/2026

اہم معدنیات پر چین کا غلبہ، امریکہ کا متبادل ذرائع تلاش کرنے کا اعلان

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ اور دنیا کسی ایک ملک پر اپنی 90 فیصد ضروریات کے لیے انحصار نہیں کر سکتے، خصوصاً جب معاملہ دفاعی نظام، ادویات اور معیشت کے لیے ضروری اہم معدنیات کا ہو۔

انہوں نے کہا کہ چین ان شعبوں میں اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاہم امریکہ اس مسئلے پر طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت کام جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ مذاکرات اور رابطے بھی ضروری ہیں، کیونکہ ذمہ دارانہ سفارت کاری امریکہ، چین اور پوری دنیا کے مفادہے ۔

ایران کے میزائل حملوں کے بعد بحرین میں سکیورٹی الرٹ، فضائی دفاع متحرکخلیجی خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی...
06/03/2026

ایران کے میزائل حملوں کے بعد بحرین میں سکیورٹی الرٹ، فضائی دفاع متحرک

خلیجی خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران بحرین میں سکیورٹی الرٹ مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کی جانب سے بحرین کی طرف داغے گئے تین میزائل امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی روک لیے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

بحرین خلیجی خطے میں امریکہ کے اہم ترین عسکری مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا تعینات ہے۔ اسی وجہ سے خطے میں کسی بھی بڑی کشیدگی کے دوران بحرین کی سکیورٹی صورتحال کو انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔

دوسری جانب کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایرانی ڈرون اور میزائل حملے کے بعد پروازیں معطل یا متبادل مقامات کی جانب موڑ دی گئی ہیں۔ حملے میں ہوائی اڈے کی عمارت کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خلیجی ممالک نے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیے ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کشیدگی مزید بڑھنے کی صورت میں شہری فضائی آمدورفت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مانسہرہ سے چلاس تک نئی موٹروے کی منظوریوفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان نے مانسہرہ، کاغان، ناران، جل کھڈ اور چلاس کو مل...
06/03/2026

مانسہرہ سے چلاس تک نئی موٹروے کی منظوری

وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان نے مانسہرہ، کاغان، ناران، جل کھڈ اور چلاس کو ملانے والی نئی جدید موٹروے کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ یہ شاہراہ قراقرم ہائی وے کے متبادل محفوظ راستے کے طور پر تعمیر کی جائے گی۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے اجلاس میں حکام نے بتایا کہ ایم این جے سی موٹروے کی مجموعی لمبائی 172 کلومیٹر ہوگی۔ نئے راستے کی تعمیر سے قراقرم ہائی وے کے مقابلے میں سفر کا فاصلہ تقریباً 120 کلومیٹر تک کم ہو جائے گا۔

منصوبے کے تحت بابوسر کے مقام پر ساڑھے تیرہ کلومیٹر طویل سرنگ بھی تعمیر کیے جانے کی تجویز ہے، جس سے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں آمدورفت کو زیادہ محفوظ اور آسان بنانے میں مدد ملے گی۔

وفاقی وزیرِ مواصلات کا کہنا ہے کہ نئی شاہراہ نہ صرف مقامی آبادی کے لیے سفری سہولت فراہم کرے گی بلکہ شمالی علاقوں میں سیاحت، تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

یہ منصوبہ چین کی سرحد تک رسائی بہتر بنانے، قراقرم ہائی وے پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے اور سردیوں کے دوران شمالی علاقوں سے رابطے برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

خلیجی خطے میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملے، کشیدگی میں اضافہامریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایران نے خلیجی خطے میں اپن...
06/03/2026

خلیجی خطے میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملے، کشیدگی میں اضافہ

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایران نے خلیجی خطے میں اپنے ہمسایہ ممالک کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے، جن میں کویت اور بحرین بھی شامل ہیں۔ سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی فضائی دفاعی نظام متحرک کیے گئے اور متعدد خطرات کو فضا میں ہی ناکام بنا دیا گیا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کویت کی جانب داغے گئے دو ایرانی میزائل ہدف تک پہنچنے سے پہلے ناکام ہو گئے، جبکہ بحرین کی جانب آنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے روک لیے۔ سینٹ کام نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکی فورسز نے ایرانی حملوں کے جواب میں ایران کے جزیرہ قشم پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی۔

دوسری جانب کویتی حکام کے مطابق کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون اور میزائل حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے، ٹرمینل عمارت کو نقصان پہنچا اور پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا۔

خلیجی ممالک نے فضائی دفاعی نظام مزید فعال کر دیے ہیں، جبکہ بحرین، کویت اور خطے کے دیگر ممالک میں سکیورٹی الرٹ بڑھا دیا گیا ہے۔ تازہ پیش رفت نے یہ خدشات مزید بڑھا دیے ہیں کہ محدود تصادم کسی وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

06/02/2026

نیویارک میں مسلم آفیسرز سوسائٹی کی جانب سے عید ملن پارٹی کا انعقاد کیا گیا، جس میں پولیس افسران، ان کے اہلِ خانہ اور کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی۔

تقریب سے مسلم آفیسرز سوسائٹی نیویارک کے صدر انسپکٹر وحید اختر، نائب صدر علی امتوگلو، نیویارک پولیس کے کیپٹن زعیم عباس اور ڈپٹی کمانڈنٹ مصباح نور نے خطاب کیا۔

مقررین نے عید کی خوشیوں، باہمی احترام، کمیونٹی کے درمیان مضبوط روابط اور پولیس افسران کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی تقریبات خاندانوں اور کمیونٹی کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ خلیل الرحمان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر منتخببنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحما...
06/02/2026

بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ خلیل الرحمان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر منتخب

بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسویں اجلاس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منگل کو ہونے والی ووٹنگ میں انہوں نے قبرص کے امیدوار اور سفارت کار آندریاس ایس کاکورِس کو سخت مقابلے کے بعد شکست دی۔

ڈاکٹر خلیل الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے مدمقابل قبرص کے امیدوار کو 91 ووٹ ملے۔ کامیابی کے لیے کم از کم 96 ووٹ درکار تھے۔ اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے مجموعی طور پر 190 ووٹ ڈالے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تین ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

اقوامِ متحدہ میں علاقائی باری کے طے شدہ اصول کے تحت جنرل اسمبلی کے اکیاسویں اجلاس کی صدارت ایشیا پیسیفک گروپ کے حصے میں آئی تھی۔ خلیل الرحمان رواں سال ستمبر میں عہدہ سنبھالیں گے اور ایک سال تک جنرل اسمبلی کی قیادت کریں گے۔

یہ انتخاب بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کو تقریباً چار دہائیوں بعد دوبارہ جنرل اسمبلی کی صدارت ملی ہے۔ اس سے قبل 1986 اور 1987 کے دوران بنگلہ دیش کے اس وقت کے وزیرِ خارجہ ہمایوں رشید چوہدری نے جنرل اسمبلی کے اکتالیسویں اجلاس کی صدارت کی تھی۔

ووٹنگ کے نتائج سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے اندر علاقائی حمایت اور سفارتی روابط اب بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ خلیل الرحمان کی کامیابی معمولی فرق سے ہوئی، جس کے باعث یہ مقابلہ حالیہ برسوں میں جنرل اسمبلی کی صدارت کے لیے ہونے والے نمایاں اور سخت مقابلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

Address

New York
York, NY
11580

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu America posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu America:

Share