09/12/2026
باب المندب پر حوثیوں کی پیش قدمی، سعودی عرب کا امریکہ سے کارروائی کا مطالبہ
یمن کی جنگ ایک مرتبہ پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی شہر مخا کے بعد باب المندب میں واقع تزویراتی جزیرے میون، جسے پریم بھی کہا جاتا ہے، تک اپنی موجودگی بڑھا دی ہے۔ ان پیش رفتوں سے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل باب المندب پر حوثیوں کا دباؤ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔
باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔ یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والے تجارتی اور توانائی بردار جہاز اسی راستے سے نہرِ سویز کی طرف جاتے ہیں۔ مخا، ذباب، میون اور قریبی جزائر پر اثرورسوخ حوثیوں کو اس بحری راستے کے قریب نگرانی اور ممکنہ کارروائی کی زیادہ صلاحیت فراہم کرسکتا ہے۔
تاہم موجودہ اطلاعات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ حوثیوں نے پوری آبنائے بند کردی ہے یا ہر گزرنے والے جہاز پر عملی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ حوثی حکام کا دعویٰ ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کو عمومی خطرہ نہیں اور ان کی کارروائیاں سعودی عرب کے خلاف ہیں۔
ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کم از کم دو مرتبہ رابطہ کرکے حوثیوں کے خلاف براہِ راست امریکی فوجی کارروائی کی درخواست کی۔ صدر ٹرمپ نے فوری امریکی فضائی حملوں یا جنگ میں براہِ راست شمولیت سے گریز کرتے ہوئے انٹیلی جنس معلومات، نگرانی اور اہداف کی نشاندہی میں تعاون کی پیشکش کی۔
امریکی فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن سعودی عرب کی سلامتی اور باب المندب میں آزاد جہاز رانی کی حمایت تو کرنا چاہتا ہے، لیکن فی الحال ایک نئی علاقائی جنگ میں براہِ راست داخل ہونے سے محتاط ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے سعودی عرب کے دورے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔
حوثیوں کی پیش قدمی کے جواب میں سعودی فضائی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ حوثی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ مخا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ابتدائی طور پر نقصان اور ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایران نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے سعودی عرب سے پابندیاں اور ناکہ بندی ختم کرنے اور مذاکرات کی طرف واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت حوثیوں کی توسیع کو اپنی قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
تازہ کشیدگی نے 2022 سے بڑی حد تک برقرار غیر رسمی جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران تقریباً 46 ہزار افراد کے بے گھر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اقوام متحدہ نے صورتِ حال کو یمن کی جنگ کا ایک نیا اور زیادہ خطرناک مرحلہ قرار دیا ہے۔
اصل امتحان اب یہ ہے کہ آیا سعودی عرب محدود امریکی معاونت کے ساتھ حوثیوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرے گا، یا بین الاقوامی دباؤ فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے گا۔ کسی بھی وسیع جنگ سے نہ صرف یمن کا انسانی بحران مزید سنگین ہوگا بلکہ باب المندب سے گزرنے والی عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور بحیرۂ احمر کی سلامتی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
نوٹ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان رابطوں کی تفصیلات نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع سے منسوب ہیں۔ رپورٹ کی اشاعت تک وائٹ ہاؤس اور سعودی سفارت خانے کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ (رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس)