Urdu America

Urdu America اردو امریکہ ،آپ کی آواز | آپ کی خبریں | آپ کا چینل
Urdu America is News & digital broadcast company based in US follow us.

باب المندب پر حوثیوں کی پیش قدمی، سعودی عرب کا امریکہ سے کارروائی کا مطالبہیمن کی جنگ ایک مرتبہ پھر خطرناک مرحلے میں داخ...
09/12/2026

باب المندب پر حوثیوں کی پیش قدمی، سعودی عرب کا امریکہ سے کارروائی کا مطالبہ

یمن کی جنگ ایک مرتبہ پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے اہم ساحلی شہر مخا کے بعد باب المندب میں واقع تزویراتی جزیرے میون، جسے پریم بھی کہا جاتا ہے، تک اپنی موجودگی بڑھا دی ہے۔ ان پیش رفتوں سے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل باب المندب پر حوثیوں کا دباؤ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔

باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔ یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کرنے والے تجارتی اور توانائی بردار جہاز اسی راستے سے نہرِ سویز کی طرف جاتے ہیں۔ مخا، ذباب، میون اور قریبی جزائر پر اثرورسوخ حوثیوں کو اس بحری راستے کے قریب نگرانی اور ممکنہ کارروائی کی زیادہ صلاحیت فراہم کرسکتا ہے۔

تاہم موجودہ اطلاعات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں کہ حوثیوں نے پوری آبنائے بند کردی ہے یا ہر گزرنے والے جہاز پر عملی کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ حوثی حکام کا دعویٰ ہے کہ بین الاقوامی جہاز رانی کو عمومی خطرہ نہیں اور ان کی کارروائیاں سعودی عرب کے خلاف ہیں۔

ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کم از کم دو مرتبہ رابطہ کرکے حوثیوں کے خلاف براہِ راست امریکی فوجی کارروائی کی درخواست کی۔ صدر ٹرمپ نے فوری امریکی فضائی حملوں یا جنگ میں براہِ راست شمولیت سے گریز کرتے ہوئے انٹیلی جنس معلومات، نگرانی اور اہداف کی نشاندہی میں تعاون کی پیشکش کی۔

امریکی فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن سعودی عرب کی سلامتی اور باب المندب میں آزاد جہاز رانی کی حمایت تو کرنا چاہتا ہے، لیکن فی الحال ایک نئی علاقائی جنگ میں براہِ راست داخل ہونے سے محتاط ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کے سعودی عرب کے دورے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

حوثیوں کی پیش قدمی کے جواب میں سعودی فضائی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ حوثی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ مخا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ابتدائی طور پر نقصان اور ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

ایران نے حوثیوں کے خلاف کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے سعودی عرب سے پابندیاں اور ناکہ بندی ختم کرنے اور مذاکرات کی طرف واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت حوثیوں کی توسیع کو اپنی قومی سلامتی، علاقائی استحکام اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

تازہ کشیدگی نے 2022 سے بڑی حد تک برقرار غیر رسمی جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران تقریباً 46 ہزار افراد کے بے گھر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اقوام متحدہ نے صورتِ حال کو یمن کی جنگ کا ایک نیا اور زیادہ خطرناک مرحلہ قرار دیا ہے۔

اصل امتحان اب یہ ہے کہ آیا سعودی عرب محدود امریکی معاونت کے ساتھ حوثیوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرے گا، یا بین الاقوامی دباؤ فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے گا۔ کسی بھی وسیع جنگ سے نہ صرف یمن کا انسانی بحران مزید سنگین ہوگا بلکہ باب المندب سے گزرنے والی عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور بحیرۂ احمر کی سلامتی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

نوٹ: صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان رابطوں کی تفصیلات نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع سے منسوب ہیں۔ رپورٹ کی اشاعت تک وائٹ ہاؤس اور سعودی سفارت خانے کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ (رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس)

09/12/2026

مئیر نیویارک زوہران ممدانی نے کہا ہے کہ 11 ستمبر دہشت گردی، ہولناک سانحے اور نیویارک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، جب 2 ہزار 753 والدین، بچے، میاں بیوی، دوست اور ساتھی ہم سے چھین لیے گئے۔ بعد کے برسوں میں زہریلی فضا اور ملبے میں کام کرنے والے مزید ہزاروں افراد بھی مہلک بیماریوں کے باعث جان سے گئے۔

تاہم اس سانحے کے بعد شہریوں نے خون عطیہ کرنے، ضرورت مندوں کو پناہ دینے اور اجنبیوں کی مدد کرنے میں بے مثال انسانیت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا-

09/12/2026

پرنس رحیم آغا خان پنجم نے نئی دہلی میں بھارتی نائب صدر سی پی رادھا کرشنن سے ملاقات کی۔ گفتگو میں تعلیم، صحت، صاف پانی، سماجی ترقی، تکثیریت اور بین المذاہب ہم آہنگی سمیت بھارت میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بطور 50ویں امام ان کے پہلے سرکاری دورۂ بھارت کا مقصد حکومتی و ترقیاتی تعاون مضبوط بنانے کے ساتھ اسماعیلی برادری سے ملاقات بھی ہے۔

09/12/2026

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سرکاری ملازمتوں کی خرید و فروخت کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے محکمہ جنگلات کی بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا حکم دے دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نوجوانوں کے حقِ روزگار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

09/11/2026

اللہ میری مدد فرمائے، میں ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دوں گا: صدر ٹرمپ نے حامیوں سے عہد لیا

ووٹ نہ دیا تو آپ جہنم میں جائیں گے، صدر ٹرمپ کا مزاحیہ انداز میں تقریر
ڈیلس میں ریپبلکن کنونشن کے دوران ٹرمپ نے شرکا سے ووٹ دینے کا وعدہ لیا
اگر ریپبلکن پارٹی وسط مدتی انتخاب ہار جاتی ہے تو ان کی کانگریس میں اکثریت ختم ہوجائے گی اور ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے صدر ٹرمپ کو قانون سازی میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے ۔

09/11/2026

نائن الیون کی برسی پر ایک نیویارک کے ایک کا کہنا ہے کہ ان کے والد اور ان کے جان سے جانے والے ساتھیوں کو یاد کرتے ہوئے کہا:
’’یہ سوگ کا دن ضرور ہے، مگر اس اتحاد کی یاد بھی ہے جب نیویارک، نیو جرسی اور کنیکٹی کٹ کے لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے متحد ہوگئے تھے۔ امریکہ کو آج بھی ایسے ہی اتحاد کی ضرورت ہے۔‘‘

09/11/2026

پوٹن برکس اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت پہنچ گئے

روسی صدر ولادیمیر پوٹن تین روزہ دورے پر نئی دہلی پہنچ گئے، جہاں وہ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنما تجارت، توانائی، دفاعی تعاون اور روس–یوکرین جنگ پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ سفارتی حلقے بھارت کی سرگرمیوں کو جنگ کے خاتمے میں ممکنہ کردار اور امریکہ کے ساتھ اعتماد سازی کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

#پوٹن #مودی #برکس #بھارت

امریکہ–ایران سفارت کاری کے بعد پاکستان کا نیا امتحان: تہران سے رابطے اور سعودی عرب سے دفاعی تعلقات میں توازن کیسے برقرار...
09/11/2026

امریکہ–ایران سفارت کاری کے بعد پاکستان کا نیا امتحان: تہران سے رابطے اور سعودی عرب سے دفاعی تعلقات میں توازن کیسے برقرار رہے گا؟

امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے بعد پاکستان اب ایک زیادہ مشکل مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ ایک جانب اسلام آباد کے ایران کے ساتھ سفارتی، سرحدی اور اقتصادی تعلقات ہیں، جبکہ دوسری جانب سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی شراکت داری اور سلامتی کے وعدے موجود ہیں۔

حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے پاکستان کے لیے اس توازن کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اسلام آباد حوثی حملوں کی مذمت اور سعودی خودمختاری کی حمایت کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی ایران سے رابطہ برقرار رکھتے ہوئے کشیدگی کم کرانے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

پاکستان کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ سعودی عرب کا دفاعی شراکت دار رہتے ہوئے ایران کے لیے قابلِ قبول سفارتی رابطہ کار کیسے بنا رہتا ہے—اور کہیں ثالث سے تنازعے کا فریق تو نہیں بن جاتا۔

#پاکستان #ایران #سفارتکاری ٰ

نائن الیون—زوہران ممدانی تنازعزوہران ممدانی کی نائن الیون تقریب میں شرکت پر تنازع کیوں کھڑا ہوا؟نیویارک — اردو امریکہ: ن...
09/11/2026

نائن الیون—زوہران ممدانی تنازع

زوہران ممدانی کی نائن الیون تقریب میں شرکت پر تنازع کیوں کھڑا ہوا؟

نیویارک — اردو امریکہ: نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے شدید سیاسی مخالفت اور بعض متاثرہ خاندانوں کے اعتراضات کے باوجود گراؤنڈ زیرو پر نائن الیون حملوں کی 25ویں برسی کی تقریب میں شرکت کی۔ امریکہ کے پہلے مسلمان میئر کی حیثیت سے ان کی موجودگی ایک علامتی لمحہ تھی، لیکن تقریب سے کئی ہفتے پہلے ہی انہیں وہاں نہ آنے دینے کی مہم شروع ہوگئی تھی۔

اس تنازعے میں متاثرہ خاندانوں کے تحفظات، ممدانی کی بعض سیاسی وابستگیوں پر اعتراضات، ان کے چیف قانونی مشیر کا سابقہ پیشہ ورانہ کردار اور ان کے مذہب کو نشانہ بنانے والے بیانات—سب ایک دوسرے سے جڑ گئے۔

تنازع کیسے شروع ہوا؟

نائن الیون میں اپنے پیاروں کو کھونے والے چند افراد نے ایک آن لائن پٹیشن شروع کی جس میں تقریب کے منتظمین سے ممدانی کی شرکت پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا۔

پٹیشن شروع کرنے والوں میں جیووانی گیلانٹے بھی شامل تھے، جن کی 29 سالہ اہلیہ گریس کیتھرین گیلانٹے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور کی 105ویں منزل پر کام کرتی تھیں اور حملے میں جان سے گئی تھیں۔

درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ انہیں ممدانی کے بعض عوامی مؤقف، سیاسی تعلقات اور ایسے افراد سے روابط پر اعتراض ہے جن کے بیانات کو وہ امریکہ مخالف یا نائن الیون کے متاثرین کے لیے تکلیف دہ سمجھتے ہیں۔

پٹیشن پر دستخطوں کی تعداد بعد میں تقریباً ایک لاکھ تک پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم یہ وضاحت ضروری ہے کہ تمام دستخط کنندگان نائن الیون متاثرین کے اہل خانہ نہیں تھے۔ پٹیشن آن لائن عوام کے لیے دستیاب تھی اور اس کی حمایت کرنے والوں میں متاثرہ خاندانوں کے بعض افراد کے ساتھ دیگر شہری بھی شامل تھے۔ سی بی ایس نیویارک⁠

رمزی قاسم کی تقرری کیوں زیرِ بحث آئی؟

تنازعے کا ایک اہم مرکز ممدانی کے چیف قانونی مشیر رمزی قاسم بنے۔ قاسم قانون کے پروفیسر اور شہری حقوق کے وکیل رہے ہیں۔ انہوں نے گوانتانامو بے میں قید احمد الداربی کی قانونی نمائندگی کی تھی۔

الداربی نے القاعدہ سے منسلک بحری حملوں کی منصوبہ بندی سے متعلق جنگی جرائم کے الزامات قبول کیے تھے۔ ان کی بہن کی شادی خالد المحضار سے ہوئی تھی، جو 11 ستمبر 2001 کو پینٹاگون سے ٹکرانے والے امریکی ایئرلائنز کے طیارے کے ہائی جیکروں میں شامل تھا۔

ممدانی نے نائن الیون کو شہر بھر میں ’’یاد اور خدمت کا دن‘‘ قرار دینے کے انتظامی حکم پر دستخط کے بعد استعمال ہونے والا قلم رمزی قاسم کو دیا۔ ناقدین نے اس علامتی اقدام کو متاثرین کے لیے نامناسب قرار دیا۔

دوسری جانب قانونی ماہرین اور قاسم کے حامیوں نے کہا کہ کسی ملزم کی قانونی نمائندگی کرنا اس کے نظریات یا جرائم کی حمایت کے مترادف نہیں۔ امریکی آئینی نظام میں ہر ملزم کو وکیل اور قانونی دفاع کا حق حاصل ہے۔ ایک سابق امریکی بحری فوجی وکیل نے قاسم کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض پر القاعدہ سے منسلک کرنا غیر منصفانہ اور غیر امریکی طرزِ استدلال قرار دیا۔ سٹی اینڈ اسٹیٹ نیویارک⁠

روڈی جولیانی نے کیا اعتراض کیا؟

نائن الیون کے وقت نیویارک کے میئر رہنے والے روڈی جولیانی نے بھی ممدانی سے تقریب میں شرکت نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ممدانی حملوں کو دہشت گردی قرار دینے سے گریز کرتے ہیں۔

اس دعوے کے حق میں کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ ممدانی نے اپنے بیان میں نائن الیون کو بار بار ایک ’’ہولناک دہشت گرد حملہ‘‘ قرار دیا۔

جولیانی کے بعض بیانات میں ممدانی کے مسلمان ہونے کو بھی موضوع بنایا گیا اور ان کا تقابل حملہ آوروں سے کیا گیا۔ ناقدین، مذہبی رہنماؤں اور بعض مبصرین نے ان ریمارکس کو مسلم مخالف اور بے بنیاد قرار دیا۔

برسی کی تقریب کے دوران ممدانی اور جولیانی کا آمنا سامنا ہوا تو دونوں نے مصافحہ کیا۔ ممدانی نے بعد میں اس سیاسی کشمکش کو طول دینے کے بجائے کہا کہ دن کی توجہ متاثرین، ان کے خاندانوں اور امدادی کارکنوں پر رہنی چاہیے۔

متاثرہ خاندانوں کے اندر بھی ایک رائے نہیں

ممدانی کی شرکت کی مخالفت کرنے والے خاندانوں کے جذبات کو نائن الیون کے گہرے ذاتی صدمے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ان میں بعض کا کہنا تھا کہ 25ویں برسی کو کسی سیاسی تنازعے سے دور رکھا جانا چاہیے۔

تاہم نائن الیون سے منسلک تمام خاندان اور امدادی کارکن اس مطالبے سے متفق نہیں تھے۔

اسٹیٹن آئی لینڈ میں متاثرین اور زندہ بچ جانے والوں کے ایک گروپ سے وابستہ ڈینس مک کیون نے کہا کہ خاندانوں کو اعتراض کا حق حاصل ہے، لیکن ماضی میں بھی ایسے میئر اور گورنر تقریب میں شریک ہوتے رہے جن پر نائن الیون کمیونٹی کے لیے خاطرخواہ کام نہ کرنے کے الزامات تھے؛ انہیں تقریب سے منع نہیں کیا گیا۔

نائن الیون میموریل اینڈ میوزیم نے کہا کہ تقریب کو جان بوجھ کر سیاست سے آزاد رکھا جاتا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سرکاری عہدیدار وہاں تقریر کرنے نہیں بلکہ متاثرین کی یاد میں خاموشی سے موجود رہنے آتے ہیں۔

ممدانی کا مؤقف کیا تھا؟

زوہران ممدانی نے تقریب میں شرکت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان خاندانوں، زندہ بچ جانے والوں اور امدادی کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہوکر انہیں خراجِ عقیدت پیش کریں گے جن کی زندگیاں نائن الیون نے ہمیشہ کے لیے بدل دیں۔

ان کا کہنا تھا:

’’مجھے اس شہر کا میئر ہونے پر فخر ہے۔ میں اس شہر اور اس ملک سے محبت کرتا ہوں۔ اس ہفتے ہماری توجہ ان خاندانوں پر ہونی چاہیے جن کے پیارے 25 برس پہلے نائن الیون کے ہولناک دہشت گرد حملے میں ان سے چھین لیے گئے، اور ان امدادی کارکنوں پر جنہوں نے اس شہر کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔‘‘ اے بی سی سیون نیویارک⁠

ممدانی انتظامیہ نے نائن الیون سے متعلق کیا اقدامات کیے؟

تنازعے کے دوران ممدانی نے دو انتظامی احکامات پر دستخط کیے۔ ایک حکم کے تحت 11 ستمبر کو نیویارک میں سالانہ ’’یاد اور خدمت کا دن‘‘ قرار دیا گیا، جبکہ دوسرے حکم کا مقصد شہر کی ہنگامی تیاری اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانا تھا۔

ان کی انتظامیہ نے نائن الیون کے بعد گراؤنڈ زیرو کی فضائی آلودگی، زہریلی دھول اور سرکاری ردعمل سے متعلق تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار صفحات پر مشتمل ریکارڈ بھی عوام کے لیے جاری کیا۔

ان دستاویزات میں وہ ریکارڈ بھی شامل ہے جو کئی برس تک منظرِعام پر نہیں آیا تھا۔ یہ معلومات امدادی کارکنوں، مقامی شہریوں اور نائن الیون سے منسلک بیماریوں کا سامنا کرنے والوں کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ نیویارک سٹی میئر آفس⁠

تنازعے کی اصل نوعیت کیا تھی؟

ممدانی کی شرکت پر تنازعے کے کم از کم تین پہلو تھے:

* متاثرہ خاندانوں کے بعض افراد کے حقیقی اور ذاتی تحفظات؛
* ممدانی کی تقرریوں اور سیاسی تعلقات کو بنیاد بنانے والی جماعتی مخالفت؛
* ان کے مسلمان ہونے کو نائن الیون کے حملہ آوروں سے جوڑنے والی بیان بازی۔

پہلے دو پہلو سیاسی اور عوامی احتساب کے دائرے میں آتے ہیں اور ان پر سوال اٹھانا شہریوں کا حق ہے۔ تاہم کسی وکیل کو اس کے سابق مؤکل کے جرم سے منسلک کرنا یا کسی منتخب میئر کو صرف اس کے مذہب کی بنیاد پر نائن الیون کی تقریب کے لیے ناموزوں قرار دینا ایک الگ اور زیادہ متنازع معاملہ ہے۔

بالآخر ممدانی نے تقریب میں شرکت کی، متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کسی سیاسی خطاب کے بغیر دیگر موجودہ اور سابق حکام کے ساتھ گراؤنڈ زیرو پر موجود رہے۔

یوں ان کی شرکت نے یہ بڑا سوال دوبارہ سامنے رکھا کہ نائن الیون کی یاد کو سیاسی اور مذہبی تقسیم سے کیسے محفوظ رکھا جائے—اور کیا امریکہ کا پہلا مسلمان میئر اس قومی سانحے کی یاد میں شریک ہوکر تقسیم کی علامت بنتا ہے یا ایک بدلتے ہوئے نیویارک کی نمائندگی کرتا ہے؟

#نیویارک

سابق امریکی صدر باراک حسین اوباما، سابق خاتونِ اول مشیل اوباما اور سابق صدر بل کلنٹن نائن الیون حملوں کی 25ویں برسی کے م...
09/11/2026

سابق امریکی صدر باراک حسین اوباما، سابق خاتونِ اول مشیل اوباما اور سابق صدر بل کلنٹن نائن الیون حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر منعقدہ یادگاری تقریب میں شریک ہوئے۔

Address

New York
York, NY
11580

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu America posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu America:

Shortcuts

Share