Urdu America

Urdu America اردو امریکہ ،آپ کی آواز | آپ کی خبریں | آپ کا چینل

Urdu America (اردو امریکہ) is accredit News & digital broadcast company based in US— follow us.

01/20/2026

امریکا: مئیر نیویارک کے بعد، پہلی مسلم نائب گورنر خاتون غزالہ ہاشمی کا قرآن پاک پر عہدے کا حلف

امریکا کی ریاست ورجینیا میں ایک نئی مثال قائم ہوئی ہے، جہاں غزالہ ہاشمی نے قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر لیفٹیننٹ گورنر (نائب گورنر) کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ انہیں ریاست کی تاریخ میں پہلی مسلم اور پہلی خاتون نائب گورنر قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی تقریب میں سابق رکنِ کانگریس ایبی گیل اسپین برجر نے ورجینیا کی گورنر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں، جو ریاست کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ جبکہ جے جونز نے بطور اٹارنی جنرل حلف اٹھایا اور انہیں اس عہدے پر پہلا سیاہ فام اٹارنی جنرل بتایا گیا ہے۔

حلف برداری کے موقع پر بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے انٹرفیتھ پرئیر بریک فاسٹ کا اہتمام بھی کیا گیا، جہاں امام شریف نے دعا کرائی۔ تقریب میں مختلف کمیونٹی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کی شرکت بھی رہی، جن میں سینیٹر صدام ازلان سلیم اور سینیٹر کنعان کا ذکر کیا گیا۔

اس موقع پر ایڈمز اسکاؤٹنگ امریکا اور گرلز اسکاؤٹس نے پریڈ میں حصہ لیا، جس کی قیادت رضوان جاکا، احسن اللّٰہ، بیتھنی رشید اور دیگر منتظمین نے کی۔

تقریب سے خطاب میں رہنماؤں نے اتحاد، تنوع اور عوامی خدمت کو اپنی ترجیحات قرار دیا۔ گورنر کے ایشین امریکن ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین منصور قریشی نے امید ظاہر کی کہ نئی قیادت اور کابینہ ورجینیا میں بلا تفریق عوام، خصوصاً جنوبی ایشیائی کمیونٹی کی مؤثر خدمت کرے گی۔

01/20/2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ہارڈ راک اسٹیڈیم میں قومی ترانے کے دوران تالیوں اور نعروں سے استقبال

ہارڈ راک اسٹیڈیم میں کالج فٹبال پلے آف نیشنل چیمپئن شپ کے دوران قومی ترانہ شروع ہوتے ہی امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی موجودگی پر شائقین نے زور دار تالیاں اور نعروں سے استقبال کیا۔ اسٹیڈیم میں جوش و خروش کا منظر دیکھنے کو ملا، جبکہ لمحے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے شیئر کی جا رہی ہیں۔

طالبان کی واپسی کے بعد سب سے بڑا دباؤ پاکستان پر، امیدیں کم اور خدشات بڑھ گئے-دی ڈپلومیٹاسلام آباد/کابل — عالمی جریدے دی...
01/19/2026

طالبان کی واپسی کے بعد سب سے بڑا دباؤ پاکستان پر، امیدیں کم اور خدشات بڑھ گئے-دی ڈپلومیٹ

اسلام آباد/کابل — عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کی دوبارہ حکمرانی کے بعد اگر کسی ملک نے سب سے زیادہ اثرات جھیلے ہیں تو وہ پاکستان ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ اسلام آباد نے 2021 میں طالبان کی واپسی کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک موقع سمجھا تھا، اور شروع میں سفارتی و انسانی سطح پر کابل کی حمایت بھی کی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ پاکستان کے اپنے سکیورٹی خدشات بڑھتے چلے گئے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ بن گیا کہ افغانستان کی سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت کئی جنگجو گروہوں کی سرگرمیوں کے الزامات سامنے آتے رہے، اور پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی کی کارروائیوں کو اکثر سرحد پار روابط سے جوڑا گیا۔ اسلام آباد کا مؤقف رہا کہ سرحد پار حملوں میں سب سے زیادہ ذکر ٹی ٹی پی کا آتا ہے، جبکہ طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاکستان نے ابتدا میں سخت راستہ اختیار کرنے کے بجائے بات چیت اور علاقائی سفارت کاری کو ترجیح دی۔ مختلف چینلز سے رابطے کیے گئے، ثالثی کی کوششیں ہوئیں، اور یہ امید رکھی گئی کہ طالبان حکومت پاکستان کے خدشات کو سنجیدگی سے لے گی۔ مگر رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ عملی میدان میں وہ پیش رفت نظر نہ آئی جس کی اسلام آباد کو توقع تھی۔

اسی دوران رپورٹ میں یہ نکتہ بھی سامنے آتا ہے کہ افغانستان میں بھارت کی سفارتی سرگرمیوں اور طالبان قیادت سے روابط بڑھنے نے پاکستان میں شکوک و خدشات کو مزید تقویت دی۔ پاکستان کے لیے یہ صرف سفارت کاری کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا سکیورٹی سوال بنتا گیا جس میں سرحدی سلامتی، اندرونی استحکام اور علاقائی توازن سب شامل ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق جب پاکستان کو مذاکرات اور سفارتی کوششوں سے مطلوبہ نتائج نظر نہ آئے تو پالیسی میں سختی آئی، اور بعض مواقع پر افغانستان میں موجود مبینہ ٹھکانوں کے خلاف محدود نوعیت کی کارروائیوں کی بات سامنے آنے لگی۔ تاہم دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ اس کے باوجود پاکستان نے سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں کیا اور ثالثی و رابطوں کے دروازے کھلے رکھے، تاکہ کشیدگی کم رہے اور کوئی قابلِ عمل حل نکل سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق رپورٹ دراصل ایک سادہ حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے: پاکستان نے جس تبدیلی کو “امن کی امید” سمجھا تھا، وہ اس کے لیے مزید پیچیدہ سکیورٹی چیلنج میں بدلتی گئی۔ اور اب پاکستان کے سامنے سوال یہ ہے کہ سرحد پار خطرات، داخلی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری—ان تینوں میں توازن کیسے قائم رکھا جائے-

اپنا کی سالانہ کانفرنس مارچ 2026 کے آخری ہفتے اسلام آباد میں متوقعنیویارک/اسلام آباد — شمالی امریکا میں پاکستانی نژاد ڈا...
01/19/2026

اپنا کی سالانہ کانفرنس مارچ 2026 کے آخری ہفتے اسلام آباد میں متوقع

نیویارک/اسلام آباد — شمالی امریکا میں پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کی تنظیم اے پی پی این اے نے کہا ہے کہ وہ اپنی سالانہ کانفرنس مارچ 2026 کے آخری ہفتے میں اسلام آباد میں منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں امریکا، کینیڈا اور پاکستان سے معالجین اور ہیلتھ کیئر ماہرین کی شرکت متوقع ہے۔

قونصلیٹ جنرل پاکستان نیویارک کی پریس ریلیز کے مطابق امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی اور ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلر عدنان محمود اعوان کے ہمراہ اے پی پی این اے کے صدر ڈاکٹر بابر راؤ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں طبی تعلیم، کمیونٹی ہیلتھ، انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں صحت اور ہیلتھ ٹیک کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔

اپنا نے پاکستان کے ہیلتھ سے متعلق اسٹارٹ اپس کی فہرست میں دلچسپی ظاہر کی، جبکہ سفیرِ پاکستان نے تنظیم کی کانفرنس اور دیگر اقدامات کے لیے حکومتِ پاکستان کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ ملاقات میں ڈایاسپورا کے ذریعے پاکستان–امریکا تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

01/19/2026
01/19/2026

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر گفتگو

اسلام آباد — برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ڈپٹی وزیراعظم/وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ دونوں جانب سے باہمی رابطوں اور مسلسل تبادلوں کو سراہا گیا۔

گفتگو کے دوران علاقائی امور اور حالیہ عالمی پیش رفت پر بھی بات چیت ہوئی، اور دونوں فریقین نے رابطے برقرار رکھنے اور تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کی۔

01/19/2026

‏متحدہ عرب امارات کے صدرمحمد بن زید النہیان کا دورہ بھارت ۔ کیا نیا ہونے جا رہا ہے ؟

01/19/2026

گلگت بلتستان میں زلزلے اور گلیشئیر گرنے کے مناظر

ٹرمپ کی غزہ “بورڈ آف پیس” میں وزیراعظم شہباز شریف کو شمولیت کی دعوت، پاکستان نے فلسطین مسئلے کے پائیدار حل پر زور دیااسل...
01/19/2026

ٹرمپ کی غزہ “بورڈ آف پیس” میں وزیراعظم شہباز شریف کو شمولیت کی دعوت، پاکستان نے فلسطین مسئلے کے پائیدار حل پر زور دیا

اسلام آباد/واشنگٹن — پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے مجوزہ “بورڈ آف پیس” میں وزیراعظم شہباز شریف کو شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں جاری بیان میں کہا کہ وزیراعظم پاکستان کو امریکی صدر کی جانب سے غزہ کے لیے قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔ 

دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور پاکستان کا مؤقف ہے کہ مسئلۂ فلسطین کا پائیدار اور منصفانہ حل اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔ ترجمان کے بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے سفارتی اور سیاسی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ 

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ دعوت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا غزہ کے بعد از جنگ انتظام اور بحالی سے متعلق اپنے مجوزہ فریم ورک کو آگے بڑھا رہا ہے، اور مختلف ممالک و شراکت داروں کو اس عمل میں شامل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ 

دوسری جانب بعض بین الاقوامی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ غزہ سے متعلق امریکی مجوزہ ڈھانچے پر خطے میں مختلف آرا موجود ہیں، اور اسرائیلی سیاست کے بعض حلقوں سمیت کئی فریق اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تحفظات یا اختلافات بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ 

پاکستانی حکام کی جانب سے فی الحال دعوت قبول یا رد کرنے سے متعلق کوئی تفصیل بیان میں نہیں دی گئی، تاہم دفترِ خارجہ کے مؤقف میں فلسطینی مسئلے کے حل کو اقوام متحدہ کی قراردادوں سے منسلک کر کے پاکستان کی دیرینہ پوزیشن دہرائی گئی ہے۔

کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی کا قطر کا دورہ، تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے اور سکیورٹی تعاون پر بات چیتدوحہ/اوٹاوا — کینی...
01/19/2026

کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی کا قطر کا دورہ، تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے اور سکیورٹی تعاون پر بات چیت

دوحہ/اوٹاوا — کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے قطر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو نئی سمت دینے، تجارت و سرمایہ کاری میں اضافے اور سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے پر گفتگو کی۔ کینیڈین وزیرِاعظم کے دفتر کے مطابق یہ دورہ قطر کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو وسعت دینے اور کینیڈا کی تجارتی و سیکیورٹی کی حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کا حصہ ہے۔ 

کینیڈین حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے لیے ترجیحات طے کیں، جبکہ دوحہ اور اوٹاوا نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دوطرفہ روابط کو زیادہ منظم اور نتیجہ خیز انداز میں آگے بڑھایا جائے۔ کینیڈین وزیرِاعظم کے دفتر نے بتایا کہ قطر کی جانب سے کینیڈا کے “قوم ساز/بڑے ترقیاتی” منصوبوں میں اہم اور اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے عزم کا اظہار کیا گیا، جسے کارنی نے دوطرفہ تعلقات میں “نئے باب” کے طور پر پیش کیا۔

وزیرِاعظم کارنی نے امیرِ قطر کے کردار کو مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے قطر کی جانب سے مختلف مواقع پر کینیڈا کو قونصلر اور سفارتی معاونت فراہم کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔ کینیڈین بیان کے مطابق کارنی نے امیرِ قطر کو آئندہ برس کینیڈا کے دورے کی دعوت دی اور دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

شام میں حکومت اور کرد فورسز میں جنگ بندی و انضمام پر اتفاق، ترک صدر اردوان کا دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر زوردمشق/رقہ/دیر...
01/19/2026

شام میں حکومت اور کرد فورسز میں جنگ بندی و انضمام پر اتفاق، ترک صدر اردوان کا دہشت گردی کے مکمل خاتمے پر زور

دمشق/رقہ/دیرالزور — شام کی حکومت اور کرد قیادت والی شام ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے درمیان حالیہ شدید جھڑپوں کے بعد جنگ بندی اور کرد فوجی و سول ڈھانچوں کے مرکزی ریاستی نظام میں مرحلہ وار انضمام سے متعلق ایک جامع سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق یہ معاہدہ شامی صدر احمد الشراع اور SDF کے سربراہ مظلوم عبدی کے درمیان طے ہوا، جس میں شمال مشرقی شام کے کئی علاقوں میں انتظامی اور سکیورٹی اختیارات کی منتقلی، اور مرحلہ وار انضمام کے طریقۂ کار پر اتفاق شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت SDF سے وابستہ فورسز کو بعض متنازع اور عرب اکثریتی علاقوں سے مرحلہ وار پیچھے ہٹنا ہے، جبکہ تیل و گیس کے کچھ اہم مقامات، سرحدی گزرگاہوں اور قیدی مراکز سمیت متعدد حساس معاملات پر مرکزی حکومت کی عملداری بڑھانے کی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ اسی سمجھوتے کے تحت SDF کے جنگجوؤں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ انفرادی طور پر شامی ریاستی اداروں/فورسز میں ضم ہوں گے، جبکہ بعض علاقوں میں مقامی نمائندگی اور انتظامی بندوبست کے حوالے سے بھی نکات سامنے آئے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب جنوری کے وسط میں شامی افواج نے شمالی علاقوں میں پیش قدمی تیز کی، اور بعض قصبات میں SDF کے انخلا اور حکومتی فورسز کے داخلے کی خبریں رپورٹ ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے دوران امریکا نے فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور پیش قدمی روکنے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ امریکی نمائندوں کی کرد قیادت سے رابطوں کی خبریں بھی سامنے آئیں۔

دوسری جانب ترکی نے بھی اس معاہدے کو خطے کے استحکام کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے شمالی شام میں کشیدگی کم ہونے میں مدد ملے گی۔ ترکی طویل عرصے سے اپنی سرحد کے قریب کرد مسلح ڈھانچوں کی موجودگی کو سکیورٹی خطرہ سمجھتا رہا ہے، جبکہ SDF اپنا مؤقف داعش کے خلاف جنگ اور مقامی سکیورٹی انتظامات کے تناظر میں پیش کرتی رہی ہے۔

اسی تناظر میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے شامی ہم منصب احمد الشراع سے گفتگو میں زور دیا کہ شام اور پورے خطے کے لیے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے۔ اردوان کے مطابق انقرہ کئی شعبوں میں دمشق کے لیے اپنی حمایت میں اضافہ کرے گا، تاکہ شام میں استحکام اور ریاستی عملداری مضبوط ہو سکے۔

Address

New York
York, NY
11040

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu America posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu America:

Share