31/05/2026
باغ آزاد کشمیر: ناقص انٹرنیٹ سروسز، نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں
ضلع باغ، جو آزاد کشمیر کا ایک خوبصورت، تعلیم یافتہ اور نمایاں خطہ سمجھا جاتا ہے، اس وقت انٹرنیٹ اور نیٹ ورک کی ناقص صورتحال کے باعث ایک سنگین بحران سے دوچار ہے۔ مختلف موبائل کمپنیوں کی جانب سے سروسز کے نام پر ماہانہ بھاری رقوم وصول کرنے کے باوجود صارفین کو انتہائی کمزور، غیر مستحکم اور اکثر "نو سگنل" انٹرنیٹ فراہم کیا جا رہا ہے، جس نے عوامی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔
فری لانسرز اور آن لائن ورکرز متاثر
جدید دور میں جہاں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے، ضلع باغ کے متعدد باصلاحیت نوجوان، فری لانسرز اور آئی ٹی پروفیشنلز گھر بیٹھے ملکی و غیر ملکی سطح پر کام کر کے قیمتی زرمبادلہ کما رہے تھے۔ تاہم غیر معیاری انٹرنیٹ سروسز کے باعث ان کا روزگار شدید خطرے میں پڑ چکا ہے۔ بروقت کام مکمل نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف ان کا بین الاقوامی اعتماد متاثر ہو رہا ہے بلکہ کئی نوجوان بہتر مواقع کی تلاش میں راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر شہروں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
طلبہ و طالبات کا تعلیمی نقصان
انٹرنیٹ کی عدم دستیابی اور کمزور نیٹ ورک نے طلبہ و طالبات کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ آن لائن کلاسز، ریسرچ، اسائنمنٹس اور جدید تعلیمی نظام مکمل طور پر انٹرنیٹ پر منحصر ہیں۔ اس صورتحال کے باعث طلبہ تعلیمی دوڑ میں پیچھے رہتے جا رہے ہیں، جو ان کے مستقبل کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
عوامی شکایات اور مالی بوجھ
مقامی صارفین کا کہنا ہے کہ موبائل کمپنیاں ہر ماہ بھاری پیکجز کے عوض رقوم وصول کر رہی ہیں، مگر فراہم کی جانے والی سروس اس کے برعکس انتہائی ناقص ہے۔ عوامی سطح پر اس عدم توازن نے شدید بے چینی اور مایوسی کو جنم دیا ہے۔
حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ
ضلع باغ اور گردونواح کے عوام، طلبہ، تاجران اور سول سوسائٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)، حکومت آزاد کشمیر اور متعلقہ کمپنیوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نیٹ ورک انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کیا جائے، 4G سروسز کو بہتر اور مستحکم بنایا جائے، اور عوامی شکایات کا سنجیدگی سے ازالہ کیا جائے۔
اگر صورتحال کو فوری بہتر نہ کیا گیا تو عوام شدید احتجاج اور منظم ردعمل کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
یہ وقت ذمہ داری کا ہے، تاکہ ضلع باغ کے نوجوان اپنے ہی علاقے میں تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع حاصل کر سکیں اور ہجرت پر مجبور نہ ہوں۔