Pakistani South Africans

Pakistani South Africans 🗞️ 𝚄𝚛𝚍𝚞 𝙽𝚎𝚠𝚜 & 𝙸𝚗𝚏𝚘𝚛𝚖𝚊𝚝𝚒𝚘𝚗
🌎 𝙿𝚊𝚔𝚒𝚜𝚝𝚊𝚗𝚒 𝙲𝚘𝚖𝚖𝚞𝚗𝚒𝚝𝚢 𝚒𝚗 𝚂𝚘𝚞𝚝𝚑 𝙰𝚏𝚛𝚒𝚌𝚊

🇵🇰❤️🇿🇦

🚗 ســاؤتھ افــریقہ میں ڈرائیونگ لائسنس کی مدت 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کرنے کی منظوریســاؤتھ افــریقہ کی کابینہ نے ڈرائیو...
30/07/2026

🚗 ســاؤتھ افــریقہ میں ڈرائیونگ لائسنس کی مدت 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کرنے کی منظوری

ســاؤتھ افــریقہ کی کابینہ نے ڈرائیونگ لائسنس کی میعاد پانچ (5) سال سے بڑھا کر دس (10) سال کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ ✅

یہ توسیع صرف لائٹ موٹر وہیکلز کے ڈرائیونگ لائسنس پر لاگو ہوگی، جن میں درج ذیل لائسنس کوڈز شامل ہیں:
🚘 Code A
🏍 Code A1
🚗 Code B
🚙 Code EB

اس فیصلے کے تحت مذکورہ کیٹیگریز کے ڈرائیونگ لائسنس اب 5 سال کے بجائے 10 سال کے لیے مؤثر ہوں گے۔

📡📲 اپڈیٹ رہیں، جڑے رہیں — ہمیں فالو کریں 🌐
-------------- پــاکستانی ســاؤتھ افــریقنز --------------

-

🏛️ غیر دستاویزی والدین کے لیے بڑی قانونی کامیابی: عدالت نے ہوم افیئرز کو بچوں کی پیدائش رجسٹر کرنے کا حکم دے دیا⚖️ ویسٹر...
30/07/2026

🏛️ غیر دستاویزی والدین کے لیے بڑی قانونی کامیابی: عدالت نے ہوم افیئرز کو بچوں کی پیدائش رجسٹر کرنے کا حکم دے دیا

⚖️ ویسٹرن کیپ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جنوبی افریقہ کے وزیرِ ہوم افیئرز ڈاکٹر لیون ایموس شریبر کے ماتحت Department of Home Affairs کی جانب سے صرف اس بنیاد پر بچوں کی پیدائش رجسٹر کرنے سے انکار کرنا کہ والدین میں سے ایک یا دونوں کے پاس درست امیگریشن دستاویزات موجود نہیں، غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

عدالت نے پیدائش کے اندراج سے متعلق متعدد ضوابط کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ہوم افیئرز کو متاثرہ بچوں کی پیدائش رجسٹر کرنے، انہیں پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری کرنے اور ان بالغ افراد کو بھی قانونی تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا جن کی پیدائش بچپن میں یتیم یا لاوارث ہونے کے باعث کبھی رجسٹر نہیں ہو سکی۔

یہ فیصلہ منگل، 29 جولائی 2026 کو ویسٹرن کیپ ہائی کورٹ کے فل بینچ نے سنایا، جس میں جج پریذیڈنٹ فرانسس کے ساتھ جج کلویٹے اور جج ماپوما نے اتفاق کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ہوم افیئرز ایسے والدین کی درخواستیں وصول یا پراسیس کرنے سے غیر قانونی طور پر انکار کرتا رہا جو درست پاسپورٹ، ویزا یا پرمٹ پیش نہیں کر سکتے تھے۔

عدالت کے مطابق یہ طرزِ عمل اور پیدائش و اموات کے اندراج سے متعلق متعدد ضوابط آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہیں اور ان کے باعث بے شمار بچوں اور کمزور افراد کو قانونی شناخت سے محروم رکھا گیا۔

یہ مقدمہ 18 درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جن میں ایسے والدین شامل تھے جن کے بچوں کو ان کی امیگریشن حیثیت کی وجہ سے پیدائشی سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا، ایسے بالغ افراد بھی شامل تھے جن کی پیدائش بچپن میں یتیم یا لاوارث ہونے کے باعث رجسٹر نہیں ہوئی، جبکہ Refugee Social Services بھی درخواست گزاروں میں شامل تھی۔ Scalabrini Centre of Cape Town نے عدالت کے معاون (Friend of the Court) کے طور پر کارروائی میں حصہ لیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ پیدائش کا اندراج کسی شخص کے قانونی وجود کو تسلیم کرتا ہے، لیکن اس سے خودکار طور پر جنوبی افریقہ کی شہریت حاصل نہیں ہوتی۔

عدالت نے کہا:
"یہ مقدمہ ہرگز اس غلط تصور سے متعلق نہیں کہ پیدائش کا اندراج خود بخود جنوبی افریقی شہریت دے دیتا ہے، کیونکہ ہمارے قانون میں ایسا نہیں ہے۔"

عدالت نے ان چار گروہوں کی نشاندہی کی جو پیدائش کے اندراج کے نظام سے متاثر ہوئے:
• ایسے بچے جن کے ایک والدین جنوبی افریقہ کے شہری، مستقل رہائشی یا تسلیم شدہ پناہ گزین ہیں جبکہ دوسرا غیر دستاویزی ہے۔
• ایسے بچے جو غیر دستاویزی غیر ملکی والدین کے ہاں جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے۔
• ایسے بچے جن کی پیدائش مقررہ مدت میں رجسٹر نہیں کی گئی۔
• ایسے بالغ افراد جن کی پیدائش بچپن میں یتیم یا لاوارث ہونے کی وجہ سے رجسٹر نہیں ہوئی۔

عدالت نے فیصلہ دیا کہ اگر والدین درست پاسپورٹ، ویزا یا پرمٹ پیش نہ کر سکیں تو صرف اسی بنیاد پر ہوم افیئرز پیدائش رجسٹر کرنے سے انکار نہیں کر سکتا۔

عدالت نے کہا کہ اس معاملے پر پہلے بھی عدالتی فیصلے موجود ہیں لیکن ہوم افیئرز کے اہلکار مسلسل ان پر عمل نہیں کر رہے تھے۔

عدالت نے ڈائریکٹر جنرل ہوم افیئرز کو حکم دیا کہ متاثرہ بچوں کی پیدائش 60 دن کے اندر رجسٹر کر کے پیدائشی سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں، جبکہ محکمہ ضرورت پڑنے پر معلومات کی تصدیق بھی کر سکتا ہے۔

عدالت نے ان ضوابط کو بھی غیر آئینی قرار دیا جن کے تحت غیر ملکی والدین سے لازماً درست پاسپورٹ، ویزا یا پناہ گزین دستاویزات طلب کی جاتی تھیں۔ تاہم ان ضوابط کو تبدیل کرنے کے لیے 18 ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔

اس دوران عدالت نے حکم دیا کہ اگر یہ دستاویزات دستیاب نہ ہوں تو دیگر شواہد بھی قبول کیے جائیں، جبکہ ہوم افیئرز کو تحقیقات کا اختیار برقرار رہے گا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ ایسے بالغ افراد جو بچپن میں یتیم یا لاوارث ہونے کے باعث رجسٹر نہیں ہو سکے، وہ آج بھی اپنی پیدائش رجسٹر کرانے کا آئینی حق رکھتے ہیں۔

عدالت نے ہوم افیئرز کا یہ مؤقف مسترد کر دیا کہ یہ حق 18 سال کی عمر کے بعد ختم ہو جاتا ہے، اور کہا:
"آئین میں 'پیدائش سے' کا مطلب یہ ہے کہ حق اسی وقت پیدا ہوتا ہے، نہ کہ اس کی مدت ختم ہونے کا تعین۔"

عدالت نے حکم دیا کہ ایسے افراد حلف ناموں اور دیگر شواہد کی بنیاد پر درخواست دے سکیں گے، بشرطیکہ وہ ثابت کریں کہ وہ جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے اور بچپن سے ملک سے ان کا مستقل تعلق موجود ہے۔

عدالت نے ایک بار پھر واضح کیا کہ:
"اس فیصلے کا تعلق صرف پیدائش کے اندراج سے ہے۔ شہریت کا فیصلہ Citizenship Act کے مطابق الگ قانونی معاملہ ہے اور اس مقدمے میں اس کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔"
عدالت نے ہدایت دی کہ 60 دن کے اندر ڈائریکٹر جنرل تمام ہوم افیئرز دفاتر کو تحریری ہدایات جاری کریں تاکہ اہلکار غیر دستاویزی والدین کی درخواستیں بھی وصول اور پراسیس کریں، اور جہاں ضروری ہو وہاں حلف نامے اور دیگر شواہد پر بھی غور کریں۔

عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ہوم افیئرز ہائی کورٹ کو اپنی پیش رفت سے آگاہ کرے اور متعلقہ ضوابط میں ترامیم کرے۔
آخر میں عدالت نے وزیرِ ہوم افیئرز اور ڈائریکٹر جنرل کو مقدمے کے اخراجات ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔

📡📲 اپڈیٹ رہیں، جڑے رہیں — ہمیں فالو کریں 🌐
-------------- پــاکستانی ســاؤتھ افــریقنز --------------

29/07/2026

🚔 قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے دوران ساؤتھ افریقہ کی مشتبہ تبدیل شدہ گرین آئی ڈی بک برآمد

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے دوران پولیس کو ساؤتھ افریقہ کی ایک گرین آئی ڈی بک (Green ID Book) ملی، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس میں رد و بدل (تبدیلی) کی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق اس گرین آئی ڈی بک کا مالک موقع پر موجود نہیں تھا اور اسے تلاش نہیں کیا جا سکا۔

حکام نے بتایا ہے کہ Department of Home Affairs کے ذریعے ٹریکنگ نمبر استعمال کرتے ہوئے گرین آئی ڈی بک کے اصل مالک کی شناخت کی جائے گی۔

📡📲 اپڈیٹ رہیں، جڑے رہیں — ہمیں فالو کریں 🌐
-------------- پــاکستانی ســاؤتھ افــریقنز --------------

29/07/2026
26/07/2026

🚨 جوہانسبرگ سے اغواء ہونے والے پاکستانی شہری سلیم بھائی بحفاظت بازیاب، پولیس ٹاسک ٹیم کی کامیاب کارروائی 🎉

الحمدللہ،
جوہانسبرگ کے مارکیٹ اسٹریٹ سے 23 جولائی 2026 (جمعرات) کو اغواء کیے گئے پاکستانی شہری سلیم بھائی کو پولیس کی کامیاب کارروائی کے بعد بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق جیسے ہی اس واقعے کی خبر چوہدری خضر حیات تک پہنچی، انہوں نے فوری طور پر رضا بٹ صاحب اور مجاہد جٹ صاحب کے ہمراہ جوہانسبرگ سینٹرل پولیس اسٹیشن کے اعلیٰ افسران سے ملاقات کی۔ اس کے بعد پولیس نے اغواء شدہ شہری کی تلاش اور بازیابی کے لیے ایک خصوصی ٹاسک ٹیم تشکیل دی۔

اس کارروائی کے دوران رضا بٹ صاحب اور مجاہد جٹ صاحب نے مسلسل تین دن تک پولیس ٹاسک ٹیم کے ساتھ مل کر بھرپور کوششیں کیں۔ ان کی انتھک محنت اور پولیس کی مربوط کارروائی کے نتیجے میں آخرکار سلیم بھائی کو اغواء کاروں کے چنگل سے بحفاظت بازیاب کر لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ شخص کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس واقعے کو میڈیا سے دور رکھا گیا تھا، تاکہ ریسکیو آپریشن پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔

الحمدللہ سلیم بھائی اب محفوظ ہیں۔

📡📲 اپڈیٹ رہیں، جڑے رہیں — ہمیں فالو کریں 🌐
-------------- پــاکستانی ســاؤتھ افــریقنز --------------

-

26/07/2026

🚨 کیمپٹن پارک کے علاقے کلوورکاپ میں فائرنگ سے چار پاکستانی شہری جاں بحق

🕋 إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

جوہانسبرگ کے کیمپٹن پارک کے علاقے کلوورکاپ (Chloorkop) میں پیش آنے والے ایک مبینہ گھات لگا کر کیے گئے حملے میں چار پاکستانی شہری جاں بحق ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ساجد احمد اور ظفر احمد نامی دو سگے بھائی شامل ہیں، جن کا تعلق بلہڑ گاؤں، ضلع منڈی بہاؤالدین، پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔ جاں بحق ہونے والے دیگر دو افراد ان کے ورکرز تھے۔

بتایا جا رہا ہے کہ چاروں افراد اپنی دکان بند کرنے کے بعد گھر واپس جا رہے تھے کہ Zuurfontein اور Orangerivier روڈز کے سنگم پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں چاروں موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

🚔 ابتدائی اطلاعات میں اس واقعے کو مبینہ گھات لگا کر کیا گیا حملہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ بعض ذرائع خاندانی دشمنی کے امکان کا بھی ذکر کر رہے ہیں۔ تاہم ان اطلاعات کی تاحال پولیس یا متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

🔎 پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ تاحال کسی گرفتاری یا حملے کے محرکات کے حوالے سے سرکاری طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

🤲 اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

🌙✨ آمِيْنَ ثُمَّ آمِيْنَ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ !!!

📡📲 اپڈیٹ رہیں، جڑے رہیں — ہمیں فالو کریں 🌐
-------------- پــاکستانی ســاؤتھ افــریقنز --------------
-

23/07/2026

🎥 منڈیلا ڈے کے موقع پر پاکستانی برادری کا انسانیت دوستی کا عملی مظاہرہ

منڈیلا ڈے کے موقع پر ســاؤتھ افــریقہ کے ماراباستاد (Marabastad) میں مقیم پاکستانی برادری نے مقامی ضرورت مند افراد میں کمبل تقسیم کیے۔

اس موقع پر پاکستانی کمیونٹی نے مقامی افراد کے ساتھ یکجہتی اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کا اظہار کرتے ہوئے متعدد خاندانوں میں کمبل تقسیم کیے۔ اس اقدام کو مقامی کمیونٹی نے سراہا۔

📡📲 اپڈیٹ رہیں، جڑے رہیں — ہمیں فالو کریں 🌐
-------------- پــاکستانی ســاؤتھ افــریقنز --------------

-

🛂 دوہری شہریت رکھنے والی بچی کے پاسپورٹ پر ہوم افیئرز میں الجھنڈربن کی رہائشی رضوانہ رشاد شیر نے اپنی سات ماہ کی، پاکستا...
17/07/2026

🛂 دوہری شہریت رکھنے والی بچی کے پاسپورٹ پر ہوم افیئرز میں الجھن

ڈربن کی رہائشی رضوانہ رشاد شیر نے اپنی سات ماہ کی، پاکستان میں پیدا ہونے والی بیٹی سحرش کے لیے ســاؤتھ افریقہ کا پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کے دوران محکمہ ہوم افیئرز میں پیش آنے والی مشکلات کی داستان شیئر کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں تقریباً تین ہفتوں تک مسلسل مختلف دفاتر کے چکر لگوائے گئے اور متعدد بار واپس بھیج دیا گیا۔

رضوانہ شیر، جو ســاؤتھ افریقہ کی شہری ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے پاکستانی شہری اور ڈاکٹر ڈاکٹر ملک عمر شیر سے شادی کی، جس کے بعد وہ پاکستان میں رہائش پذیر تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ حمل کے دوران طبیعت زیادہ خراب رہنے کے باعث ان کے شوہر، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، نے انہیں پاکستان آنے کا مشورہ دیا تاکہ وہ ان کی بہتر دیکھ بھال کر سکیں۔ ان کی بیٹی سحرش پاکستان میں پیدا ہوئی۔

رضوانہ کے مطابق، بیٹی کی پیدائش کے بعد پہلے اس کا پاکستانی پیدائشی سرٹیفکیٹ حاصل کیا گیا، جس کے بعد پاکستان میں موجود ســاؤتھ افریقہ کے سفارت خانے سے اس کے لیے ســاؤتھ افریقہ کا پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

ان کے مطابق سفارت خانے نے بتایا کہ پاسپورٹ کے اجرا میں وقت لگ سکتا ہے، اس لیے اگر وہ ســاؤتھ افریقہ سفر کرنا چاہتی ہیں تو بچی اور ان کے شوہر کے لیے وزیٹر ویزا حاصل کر لیا جائے۔ بعد ازاں دونوں کے لیے تین ماہ کا وزیٹر ویزا جاری کیا گیا۔

رضوانہ نے بتایا کہ مارچ میں ســاؤتھ افریقہ پہنچنے کے فوراً بعد انہوں نے محکمہ ہوم افیئرز میں اپنی شادی رجسٹر کروائی اور اپنی بیٹی کی ســاؤتھ افریقی پیدائش کی رجسٹریشن کے لیے درخواست دی، جو بغیر کسی مشکل کے مکمل ہوئی اور مئی میں انہیں پیدائشی سرٹیفکیٹ موصول ہوگیا۔

بعد ازاں ان کے شوہر ملازمت کے سلسلے میں دوبارہ پاکستان واپس چلے گئے جبکہ رضوانہ نے اپنی بیٹی کے پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جون کے آخر میں وہ uMgeni Road میں واقع ہوم افیئرز برانچ گئیں، جہاں انہیں مطلوبہ دستاویزات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

رضوانہ کے مطابق، پاکستان میں موجود ان کے شوہر نے تمام ضروری فارم مکمل کیے، جبکہ ســاؤتھ افریقہ کے سفارت خانے نے بھی تمام دستاویزات براہِ راست محکمہ ہوم افیئرز کو ای میل کر دیں تاکہ کسی قسم کی جعلسازی یا بدعنوانی کا خدشہ نہ رہے۔

تاہم، جب وہ دوبارہ دفتر پہنچیں تو انہیں بتایا گیا کہ کچھ فارموں پر سفارت خانے کی مخصوص مہر موجود نہیں، اس لیے درخواست قبول نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ سفارت خانے نے وضاحت کی کہ متعلقہ حصے پر مہر صرف اس وقت لگ سکتی ہے جب درخواست گزار کمشنر کے سامنے موجود ہو، جبکہ بچی ســاؤتھ افریقہ میں اپنی والدہ کے ساتھ تھی، اس لیے ایسا ممکن نہیں تھا۔

بعد ازاں سفارت خانے نے اپنے سرکاری لیٹر ہیڈ پر تحریری وضاحت بھی بھیجی، لیکن رضوانہ کے مطابق ہوم افیئرز کے عملے نے اسے دیکھنے سے بھی انکار کر دیا اور دوبارہ سفارت خانے سے رجوع کرنے کا کہا۔ سفارت خانے نے بعد میں فارم پر سرخ دائرہ بنا کر وضاحت بھی درج کی، مگر پھر بھی درخواست قبول نہ کی گئی۔

رضوانہ کا کہنا ہے کہ وہ اس دوران پانچ مرتبہ ہوم افیئرز برانچ گئیں لیکن ہر بار انہیں واپس بھیج دیا گیا۔

ان کے مطابق گزشتہ ہفتے جب انہوں نے اعلیٰ حکام سے بات کرنے کا مطالبہ کیا تو متعلقہ اہلکار نے سکیورٹی کو بلا کر انہیں دفتر سے باہر نکلوا دیا، جس سے وہ شدید شرمندگی محسوس کر رہی تھیں۔

بعد میں ایک سکیورٹی گارڈ، جو ان کی مسلسل آمد سے واقف تھا، نے انہیں برانچ ڈائریکٹر کے رابطے کی تفصیلات فراہم کیں، تاہم اس سے بھی فوری مسئلہ حل نہ ہو سکا۔

رضوانہ نے اس کے بعد ڈیموکریٹک الائنس (DA)، Department of Home Affairs، ســاؤتھ افریقہ میں موجود پاکستان ہائی کمیشن سے رابطہ کیا اور اپنی ویڈیو TikTok پر بھی شیئر کی۔
انہوں نے بتایا کہ پیر کے روز انہیں ڈیموکریٹک الائنس کی جانب سے جواب موصول ہوا کہ معاملہ محکمہ ہوم افیئرز کے سامنے اٹھایا جائے گا۔

اسی دن ایک معروف بااثر کاروباری شخصیت نے بھی ان سے رابطہ کیا اور برانچ ڈائریکٹر سے ذاتی طور پر بات کرنے کی پیشکش کی۔

رضوانہ کے مطابق اسی دوپہر انہیں اطلاع دی گئی کہ وہ دوبارہ برانچ جائیں، اور اگلے دن ان کی بیٹی کے پاسپورٹ کی درخواست بالآخر جمع کر لی گئی۔

تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن اہلکاروں سے ان کا واسطہ پڑا، ان کا رویہ انتہائی غیر مناسب اور غیر پیشہ ورانہ تھا۔

رضوانہ شیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی کہانی اس امید کے ساتھ شیئر کی ہے کہ آئندہ کسی اور شہری کو ایسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ بعض سرکاری ملازمین کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ عوامی خدمت کے لیے مقرر کیے گئے ہیں، شہریوں پر احسان نہیں کر رہے، اور انہیں لوگوں سے پیشہ ورانہ، باوقار اور شائستہ انداز میں پیش آنا چاہیے کیونکہ ٹیکس دہندگان ہی ان کی تنخواہوں کی ادائیگی کرتے ہیں۔

📡📲 اپڈیٹ رہیں، جڑے رہیں — ہمیں فالو کریں 🌐
-------------- پــاکستانی ســاؤتھ افــریقنز --------------

-

17/07/2026

🎥 خرم شہزاد کے بھائی کا خصوصی ویڈیو پیغام

خرم شہزاد کو 4 جولائی کی شام پریٹوریا کے علاقے ہرکیولیز سے اغواء کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے Case No. 41/07/2026 کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔
اب خرم شہزاد بحفاظت واپس پہنچ گئے ہیں، اور رہائی کے بعد ان کا ویڈیو پیغام بھی سامنے آ گیا ہے۔

📡📲 اپڈیٹ رہیں، جڑے رہیں — ہمیں فالو کریں 🌐
-------------- پــاکستانی ســاؤتھ افــریقنز --------------

-

15/07/2026

🚨 کوئی بھی پاکستانی تنسیخ شدہ نائیکوپ پر وطن نہیں آ سکتا

پاکستانی حکام کے مطابق کوئی بھی پاکستانی شہری تنسیخ شدہ (Cancelled) نائیکوپ (NICOP) کارڈ پر پاکستان کا سفر نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کارڈ کے ذریعے ملک میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

متعلقہ حکام نے واضح کیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے سفری دستاویزات کی مدتِ کار اور حیثیت کی بروقت جانچ کریں، تاکہ سفر کے دوران کسی بھی قسم کی پریشانی یا امیگریشن مسائل سے بچا جا سکے۔

📡📲 اپڈیٹ رہیں، جڑے رہیں — ہمیں فالو کریں 🌐
-------------- پــاکستانی ســاؤتھ افــریقنز --------------

-

Address

Cape Town
8000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistani South Africans posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share