11/08/2026
2 دسمبر 2023 کو گلگت بلتستان کے علاقے چلاس کے قریب مسافروں سے بھری ایک بس پر مسلح حملہ آوروں نے اچانک فائرنگ کردی۔ بس میں تقریباً 45 افراد سوار تھے اور مسلسل فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ انہی مسافروں میں 28 سالہ بی بی روشن، ان کے شوہر بلبل شاہ اور ان کے دو بچے عمائمہ اور ارسلان بھی شامل تھے۔ یہ خاندان غذر سے کراچی جا رہا تھا جہاں وہ نئی زندگی شروع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
فائرنگ شروع ہوئی تو بی بی روشن نے اپنی جان بچانے کے بجائے سب سے پہلے اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے سوئے ہوئے شوہر کو جھنجھوڑ کر اٹھایا، دونوں بچوں کو سیٹ کے نیچے محفوظ کیا اور گولیوں کے سامنے خود ان کے لیے ڈھال بن گئیں۔ اس دوران بی بی روشن کو 6 گولیاں لگیں، لیکن شدید زخمی ہونے کے باوجود ان کی توجہ اپنی حالت پر نہیں بلکہ بچوں کی سلامتی پر رہی۔
ان کے شوہر کے مطابق بی بی روشن گولیاں لگنے کے بعد بھی کہتی رہیں کہ انہیں کچھ نہیں ہوا، پہلے بچوں کو بچاؤ۔ وہ مسلسل یہی پکار رہی تھیں کہ انہیں چھوڑ دو اور بچوں کو محفوظ کرو۔ فائرنگ کے دوران بس کا ڈرائیور بھی گولی لگنے سے زخمی ہوگیا اور بس بے قابو ہوکر پہاڑی ڈھلوان کی طرف اترنے لگی، تاہم آگے ایک ٹرک سے ٹکرا کر رک گئی۔
بس رکنے کے بعد بلبل شاہ کو اندازہ ہوا کہ ان کی اہلیہ کو متعدد گولیاں لگی ہیں اور وہ اپنے جسم کے نچلے حصے کو حرکت نہیں دے پا رہی تھیں۔ اس کے باوجود بی بی روشن ہوش میں رہیں اور ہسپتال لے جاتے ہوئے بھی بار بار بچوں کے بارے میں پوچھتی رہیں اور شوہر سے ان کا خیال رکھنے کو کہتی رہیں۔
زخمیوں کی مدد کے لیے چلاس کے مقامی لوگ بڑی تعداد میں ہسپتال پہنچے، خون عطیہ کیا اور اپنی گاڑیوں میں زخمیوں کو طبی مراکز تک منتقل کیا۔ بعد میں بی بی روشن اور ان کے خاندان کو فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے راولپنڈی اور پھر بلوچستان انتظامیہ کے انتظام کردہ طیارے سے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری رہا۔
6 گولیاں کھانے کے باوجود اپنے دو بچوں کو گولیوں سے بچانے کی کوشش کرنے والی بی بی روشن کی بہادری پر ان کے شوہر نے کہا کہ انہیں اپنی اہلیہ پر بے حد فخر ہے، کیونکہ اس انتہائی خوفناک لمحے میں بھی ان کی پہلی اور آخری فکر اپنے بچوں کی زندگی تھی۔